مصیبت کے وقت صبر کرنا
انس ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ ایک ایسی عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے بچے کی موت کے غم میں (بآواز) رو رہی تھی، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور صبر کرو ١ ؎، اس عورت نے کہا: آپ کو میری مصیبت کا کیا پتا ٢ ؎؟، تو اس سے کہا گیا: یہ نبی اکرم ﷺ ہیں (جب اس کو اس بات کی خبر ہوئی) تو وہ آپ ﷺ کے پاس آئی، آپ کے دروازے پہ اسے کوئی دربان نہیں ملا، اس نے آپ ﷺ سے کہا: اللہ کے رسول! میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: صبر وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو یا فرمایا: صبر وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں ہو ۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز ٣١ (١٢٨٣)، ٤٢ (١٣٠٢)، الأحکام ١١ (٧١٥٤)، صحیح مسلم/الجنائز ٨ (٩٢٦)، سنن النسائی/الجنائز ٢٢ (١٨٧٠)، سنن الترمذی/ الجنائز ١٣ (٩٨٨)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٥ (١٥٩٦)، (تحفة الأشراف: ٤٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٣٠، ١٤٣، ٢١٧) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: یعنی نوحہ مت کر ورنہ اسے عذاب دیا جائے گا۔ ٢ ؎: کہ یہ میرے لئے کتنی بڑی مصیبت ہے۔
Narrated Anas (RA) : The Prophet ﷺ came upon a woman who was weeping for her child. He said to her: Fear Allah and have patience. She said: What have you to do with my calamity ? She was then told that he was the Prophet ﷺ . She, therefore, came to him. She did not find doorkeepers at his gate. She said: I did not recognize you, Messenger of Allah. He said: Endurance is shown only at a first blow.
Top