Sunan Abu Dawood 4497صحیح
حاکم اگر صاحب حق کو خون معاف کرنے کا حکم دے تو کیا ہے؟
حدیث نمبر: 4497
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُفِعَ إِلَيْهِ شَيْءٌ فِيهِ قِصَاصٌ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ جب بھی نبی اکرم ﷺ کے پاس کوئی ایسا مقدمہ لایا جاتا جس میں قصاص لازم ہوتا تو میں نے آپ کو یہی دیکھا کہ (پہلے) آپ اس میں معاف کردینے کا حکم دیتے۔
تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/القسامة ٢٣ (٤٧٨٧، ٤٧٨٨) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٣٥ (٢٦٩٢) ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢١٣، ٢٥٢) (صحیح )
Narrated Anas ibn Malik: I never saw the Messenger of Allah ﷺ that some dispute which involved retaliation was brought to him but he commanded regarding it for remission.