Sunan Abu Dawood 1813صحیح
تلبیہ کا بیان
حدیث نمبر: 1813
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ التَّلْبِيَةَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وَالنَّاسُ يَزِيدُونَ ذَا الْمَعَارِجِ وَنَحْوَهُ مِنَ الْكَلَامِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ فَلَا يَقُولُ لَهُمْ شَيْئًا.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھا، پھر انہوں نے تلبیہ کا اسی طرح ذکر کیا جیسے ابن عمر کی حدیث میں ہے اور کہا : لوگ (اپنی طرف سے اللہ کی تعریف میں) ذا المعارج اور اس جیسے کلمات بڑھاتے اور نبی اکرم ﷺ سنتے تھے لیکن آپ ان سے کچھ نہیں فرماتے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المناسک ١٥ (٢٩١٩) (کلاھما بدون قولہ : ” والناس یزیدون الخ) ، ( تحفة الأشراف : ٢٦٠٤) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الحج ١٩(١٥٤٠) (في سیاق حجة النبي ﷺ الطویل) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : نبی اکرم ﷺ کی یہ خاموشی اور سکوت تلبیہ کے مخصوص الفاظ پر اضافہ کے جواز کی دلیل ہے، اگرچہ افضل وہی ہے جو آپ ﷺ سے مرفوعاً ثابت ہے اور جس پر آپ ﷺ نے مداومت کی ہے۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ raised his voice in talbiyah; he then mentioned the wordings of talbiyah like the tradition narrated by Ibn Umar. The people used to add the words dhal-maarij (the Possessor of ladders) and similar other words (to talbiyah) while the Prophet ﷺ heard them utter these words, but he did not say anything to them.