Sunan Abu Dawood 1018صحیح
جب چار کے بجائے پانچ رکعت پڑھ لے تو کیا کرنا چاہیے؟
حدیث نمبر: 1018
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، حَدَّثَنَاأَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ دَخَلَ، قَالَ: عَنْ مَسْلَمَةَ الْحُجَرَ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: الْخِرْبَاقُ، كَانَ طَوِيلَ الْيَدَيْنِ، فَقَالَ لَهُ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ، فَقَالَ: أَصَدَقَ ؟قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْهَا، ثُمَّ سَلَّمَ.
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کی تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا، پھر اندر چلے گئے۔ مسدد نے مسلمہ سے نقل کیا ہے کہ پھر آپ ﷺ حجرے میں چلے گئے تو ایک شخص جس کا نام خرباق تھا اور جس کے دونوں ہاتھ لمبے تھے اٹھ کر آپ کے پاس گیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا نماز کم کردی گئی ہے ؟ (یہ سن کر) آپ ﷺ اپنی چادر کھینچتے ہوئے غصے کی حالت میں باہر نکلے اور لوگوں سے پوچھا : کیا یہ سچ کہہ رہا ہے ؟ ، لوگوں نے کہا : ہاں، تو آپ ﷺ نے وہ رکعت پڑھی، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دونوں سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٥٧٤) ، سنن النسائی/السھو ٢٣ (١٢٣٧، ١٢٣٨) ، ٧٥ (١٣٣٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣٤ (١٢١٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٢٧، ٤٢٩، ٤٣٥، ٤٣٧، ٤٤٠، ٤٤١) (صحیح )
Imran bin Husain said: The Messenger of Allah ﷺ gave the salutation at the end of three rakahs in the afternoon prayer, then went into the apartment (according to the version of maslamah). A man called al-Khirbaq who had long arms got up and said ; has the prayer been shortened, Messenger of Allah ? He came out angrily trailing his cloak and said: Is he telling the truth ? they said; Yes. He then prayed that rakah, then gave the salutation, then made two prostrations, then gave the salutation.