Sunan Abu Dawood 675صحیح
امام سے قریب رہنا باعث ثواب ہے اور اس سے دور رہنا نا پسندیدہ ہے
حدیث نمبر: 675
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَزَادَ: وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الْأَسْوَاقِ.
عبداللہ بن مسعود (رض) بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے : تم لوگ صف میں آگے پیچھے نہ رہو، ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف ہوجائے گا، اور تم (مسجدوں میں) بازاروں جیسے شور و غل سے بچو ۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٢) ، سنن الترمذی/الصلاة ٥٤ (٢٢٨) ، (تحفة الأشراف : ٩٤١٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٤٥٧) ، سنن الدارمی/الصلاة ٥١ (١٣٠٣) (صحیح )
This tradition has also been transmitted by Abdullah (bin Masud) through a different chain of narrators. This version adds: “Do not be irregular, so have your hearts irregular, and beware of tumult such as found in market”.