Sunan Abu Dawood 927صحیح
نماز میں سلام کا جواب دینا
حدیث نمبر: 927
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْخُرَاسَانِيُّ الدَّامِغَانِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُبَاءَ يُصَلِّي فِيهِ، قَالَ: فَجَاءَتْهُ الْأَنْصَارُ، فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي، قَالَ: فَقُلْتُ لِبِلَالٍ: كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِينَ كَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي ؟ قَالَ: يَقُولُ هَكَذَا: وَبَسَطَ كَفَّهُ، وَبَسَطَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ كَفَّهُ، وَجَعَلَ بَطْنَهُ أَسْفَلَ، وَجَعَلَ ظَهْرَهُ إِلَى فَوْقٍ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے کے لیے قباء گئے، تو آپ کے پاس انصار آئے اور انہوں نے حالت نماز میں آپ کو سلام کیا، وہ کہتے ہیں : تو میں نے بلال (رض) سے پوچھا : جب انصار نے رسول اللہ ﷺ کو حالت نماز میں سلام کیا تو آپ ﷺ کو کس طرح جواب دیتے ہوئے دیکھا ؟ بلال (رض) کہا : آپ ﷺ اس طرح کر رہے تھے، اور بلال (رض) نے اپنی ہتھیلی کو پھیلائے ہوئے تھے، جعفر بن عون نے اپنی ہتھیلی پھیلا کر اس کو نیچے اور اس کی پشت کو اوپر کر کے بتایا۔
تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/ الصلاة ١٥٥ (٣٦٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٣٨، ٨٥١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٢) (حسن صحیح )
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: There is no loss in salutation and in prayer. Abu Dawud said: According to the version of Ibn Mahdi, this tradition has been narrated by Ibn Fudail as a statement of Abu Hurairah and not as a saying of the Prophet ﷺ