صحیح مسلم - کھیتی باڑی کا بیان - حدیث نمبر 4106
حدیث نمبر: 2884
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ شُعَيْبَ بْنَ إِسْحَاق حَدَّثَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ أَخْبَرَهُ:‏‏‏‏ أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عَلَيْهِ ثَلَاثِينَ وَسْقًا لِرَجُلٍ مِنْ يَهُودَ فَاسْتَنْظَرَهُ جَابِرٌ، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَى فَكَلَّمَ جَابِرٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْفَعَ لَهُ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ لِيَأْخُذَ ثَمَرَ نَخْلِهِ بِالَّذِي لَهُ عَلَيْهِ فَأَبَى عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْظِرَهُ فَأَبَى، ‏‏‏‏‏‏وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
اگر کوئی شخص قرض داری کی حالت میں وفات پا جائے اور اسکا مال موجود ہو تو اس کے وارث کو قرض خواہوں سے مہلت دلوائی جائیگی
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ان کے والد انتقال کر گئے اور اپنے ذمہ ایک یہودی کا تیس وسق کھجور کا قرضہ چھوڑ گئے، جابر ؓ نے اس سے مہلت مانگی تو اس نے (مہلت دینے سے) انکار کردیا، تو آپ نے نبی اکرم سے بات کی کہ آپ چل کر اس سے سفارش کردیں، رسول اللہ اس کے پاس تشریف لائے اور یہودی سے بات کی کہ وہ (اپنے قرض کے بدلے میں) ان کے کھجور کے باغ میں جتنے پھل ہیں لے لے لیکن اس نے انکار کیا پھر رسول اللہ نے اس سے کہا: اچھا جابر کو مہلت دے دو ، اس نے اس سے بھی انکار کیا، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع ٥١ (٢١٢٧)، الاستقراض ٨ (٢٣٩٥)، ٩ (٢٣٩٦)، ١٨ (٢٤٠٥)، الھبة ٢١ (٢٦٠١)، الصلح ١٣ (٢٧٠٩)، الوصایا ٣٦ (٢٧٨١)، المناقب ٢٥ (٣٥٨٠)، المغازي ١٨ (٤٠٥٣)، سنن النسائی/الوصایا ٤ (٣٦٧٠)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ٢٠ (٢٤٣٤)، (تحفة الأشراف: ٣١٢٦) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: پھر رسول اللہ نے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے جابر ؓ کے باغ کے کھجوروں کو قرض خواہوں کے مابین تقسیم کرنا شروع کردیا، بفضل الٰہی سب کا قرضہ اداء ہوگیا اور کھجوروں کا ڈھیر ویسا ہی رہا، یہ آپ کا معجزہ تھا۔
Top