صحيح البخاری - آرزو کرنے کا بیان - 6982
حدیث نمبر: 7226
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلاَ أَنَّ رِجَالاً يَكْرَهُونَ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي وَلاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ مَا تَخَلَّفْتُ، لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ».
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا مجھ سے لیث بن سعد نے، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ اور سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ میں نے رسول اللہ نے سنا آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر ان لوگوں کا خیال نہ ہوتا جو میرے ساتھ غزوہ میں شریک نہ ہوسکنے کو برا جانتے ہیں مگر اسباب کی کمی کی وجہ سے وہ شریک نہیں ہوسکتے اور کوئی ایسی چیز میرے پاس نہیں ہے جس پر انہیں سوار کروں تو میں کبھی (غزاوات میں شریک ہونے سے) پیچھے نہ رہتا۔ میری خواہش ہے کہ اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر مارا جاؤں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : I heard Allah's Apostle ﷺ saying, "By Him in Whose Hands my life is! Were it not for some men who dislike to be left behind and for whom I do not have means of conveyance, I would not stay away (from any Holy Battle). I would love to be martyred in Allah's Cause and come to life and then get, martyred and then come to life and then get martyred and then get resurrected and then get martyred.
Top