صحيح البخاری - جبر کرنے کا بیان - حدیث نمبر 6952
حدیث نمبر: 6952
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَان ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ الله بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولُ اللهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْصُرُهُ إِذَا كَانَ مَظْلُومًا، ‏‏‏‏‏‏أَفَرَأَيْتَ إِذَا كَانَ ظَالِمًا كَيْفَ أَنْصُرُهُ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تَحْجُزُهُ أَوْ تَمْنَعُهُ مِنَ الظُّلْمِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ ذَلِكَ نَصْرُهُ.
کسی شخص کا اپنے ساتھی کے متعلق جب کہ اس کے قتل کئے جانے یا اس طرح کی کسی اور چیز کا خطرہ ہو۔ قسم کھانے کا بیان کہ وہ میرا بھائی ہے اور اسی طرح ہر وہ شخص جس پر زبردستی کی جائے اور خائف ہو اس لئے کہ وہ مظالم کو اس سے دفع کرتا ہے اور اس کی طرف سے جنگ کرتا ہے اور اس کو (بے سہارا) نہیں چھوڑتا، اگر مظلوم کی حمایت میں لڑے تو اس پر قصاص یا خون بہا نہیں ہے اگر اس سے کہا جائے کہ تجھے شراب پینا ہوگی یا مردار کھانا پڑے گا، تجھے اپنا غلام بیچنا پڑے گا، یا تجھے دین کا اقرار کرنا ہوگا، یا تجھے ہبہ کرنا ہوگا یا کوئی اور عقد قائم کرنے کے لئے کہا جائے، ورنہ تیرے باپ کو یا اسلامی بھائی کو ہم قتل کردیں گے تو اس کو اس کی اجازت ہے اس لئے کہ آنحضرت نے فرمایا ہے کہ مسلم مسلم کا بھائی ہے اور بعض لوگوں نے کہا کہ اگر اس سے کہا جائے کہ تجھے شراب پینی ہوگی، یا مردار کھانا پڑے گا ورنہ تیرے باپ یا بیٹے یا کسی قریبی رشتہ دار کو ہم قتل کردیں گے، اس کے لئے جائز نہیں اس لئے کہ وہ مجبور نہیں ہے، پھر اس قول کے خلاف ان کا یہ قول ہے کہ اس سے کہا جائے کہ ہم تیرے باپ یا بیٹے کو قتل کردیں گے ورنہ اس غلام کو بیچ دے یا دین کا اقرار کرلے یا ہبہ کردے، تو قیاس کے مطابق یہ اس کو لازم ہیں لیکن ہم بہتر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیع و ہبہ اور تمام عقود اس صورت میں باطل ہیں۔ انہوں نے قریبی رشتہ دار اور ان کے علاوہ لوگوں کے درمیان بغیر کتاب و سنت کے تفریق کی ہے، حالانکہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی کے متعلق کہا تھا کہ یہ میری بہن ہے اور یہ انہوں نے اللہ کے رشتہ کے لحاظ سے فرمایا تھا اور نخعی نے کہا کہ جب قسم لینے والا ظالم ہو تو قسم کھانے والے کی نیت اور اگر مظلوم ہو تو قسم دینے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن سلیمان واسطی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیداللہ بن ابی بکر بن انس نے خبر دی اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب وہ مظلوم ہو تو میں اس کی مدد کروں گا لیکن آپ کا کیا خیال ہے جب وہ ظالم ہوگا پھر میں اس کی مدد کیسے کروں؟ نبی کریم نے فرمایا کہ اس وقت تم اسے ظلم سے روکنا کیونکہ یہی اس کی مدد ہے۔
Narrated Anas (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "Help your brother whether he is an oppressor or an oppressed," A man said, "O Allahs Apostle ﷺ ! I will help him if he is oppressed, but if he is an oppressor, how shall I help him?" The Prophet ﷺ said, "By preventing him from oppressing (others), for that is how to help him."
Top