Sahih Bukhari 3035صحیح

باب: جو گھوڑے پر اچھی طرح نہ جم سکتا ہو (اس کے لیے دعا کرنا)۔

حدیث نمبر: 3035
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَرِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي.
حدیث نمبر: 3036
وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ إِنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے ‘ ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر بن عبداللہ بجلی (رض) نے بیان کیا کہ جب سے میں اسلام لایا ‘ رسول اللہ ﷺ نے (پردہ کے ساتھ) مجھے (اپنے گھر میں داخل ہونے سے) کبھی نہیں روکا اور جب بھی آپ مجھ کو دیکھتے ‘ خوشی سے آپ مسکرانے لگتے۔
ایک دفعہ میں نے آپ ﷺ کی خدمت میں شکایت کی کہ میں گھوڑے کی پیٹھ پر اچھی طرح نہیں جم پاتا ہوں ‘ تو آپ ﷺ نے میرے سینے پر اپنا دست مبارک مارا ‘ اور دعا کی اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا اے اللہ ! اسے گھوڑے پر جما دے اور دوسروں کو سیدھا راستہ بتانے والا بنا دے اور خود اسے بھی سیدھے راستے پر قائم رکھ۔
Narrated Jarir (RA): Allahs Apostle ﷺ did not screen himself from me since my embracing Islam, and whenever he saw me he would receive me with a smile. Once I told him that I could not sit firm on horses. He stroke me on the chest with his hand and said, "O Allah! Make him firm and make him a guiding and a rightly-guided man."