صحيح البخاری - روزے کا بیان۔ - 1858
28- بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْشِقْ بِمَنْخِرِهِ الْمَاءَ». وَلَمْ يُمَيِّزْ بَيْنَ الصَّائِمِ وَغَيْرِهِ:
وَقَالَ الْحَسَنُ:‏‏‏‏ لَا بَأْسَ بِالسَّعُوطِ لِلصَّائِمِ إِنْ لَمْ يَصِلْ إِلَى حَلْقِهِ وَيَكْتَحِلُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ عَطَاءٌ:‏‏‏‏ إِنْ تَمَضْمَضَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَفْرَغَ مَا فِي فِيهِ مِنَ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَضِيرُهُ إِنْ لَمْ يَزْدَرِدْ رِيقَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَاذَا بَقِيَ فِي فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَمْضَغُ الْعِلْكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِ ازْدَرَدَ رِيقَ الْعِلْكِ، ‏‏‏‏‏‏لَا أَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّهُ يُفْطِرُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ يُنْهَى عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِ اسْتَنْثَرَ فَدَخَلَ الْمَاءُ حَلْقَهُ لَا بَأْسَ لَمْ يَمْلِكْ.
باب : نبی کریم ﷺ کا یہ فرمانا کہ جب کوئی وضو کرے تو ناک میں پانی ڈالے
اور نبی کریم نے روزہ دار اور غیر روزہ دار میں کوئی فرق نہیں کیا اور امام حسن بصری نے کہا کہ ناک میں (دوا وغیرہ) چڑھانے میں اگر وہ حلق تک نہ پہنچے تو کوئی حرج نہیں ہے اور روزہ دار سرمہ بھی لگا سکتا ہے۔ عطاء نے کہا کہ اگر کلی کی اور منہ سے سب پانی نکال دیا تو کوئی نقصان نہیں ہوگا اور اگر وہ اپنا تھوک نہ نگل جائے اور جو اس کے منہ میں (پانی کی تری) رہ گئی اور مصطگی نہ چبانی چاہیے۔ اگر کوئی مصطگی کا تھوک نگل گیا تو میں نہیں کہتا کہ اس کا روزہ ٹوٹ گیا لیکن منع ہے اور اگر کسی نے ناک میں پانی ڈالا اور پانی (غیر اختیاری طور پر) حلق کے اندر چلا گیا تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ یہ چیز اختیار سے باہر تھی۔
Top