Maarif-ul-Hadith 140

جنت اور دوزخ کے بارے میں ایک اہم انتباہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ النَّارِ نَامَ هَارِبُهَا، وَلاَ مِثْلَ الجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا. (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے نہیں دیکھی دوزخ کی طرح کی کوئی خوفناک بلا ، کہ سوتا ہو اس سے بھاگنے والا ، اور نہیں دیکھی میں نے جنت کی طرح کی کوئی مرغوب و محبوب چیز ، کہ سوتا ہو اس کا چاہنے والا ۔ (ترمذی) تشریح انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ کسی بلا سے مثلاً اپنی طرف آنے والے کسی خوفناک درندے سے ، یا اپنا تعاقب کرنے والے کسی سخت ظالم اور طاقتور دشمن سے جان بچانے کے لیے بھاگتا ہے ، تو بس بھاگا ہی چلا جاتا ہے ، اور جب تک کہ اطمینان نہ ہو جائے ، نہ سوتا ہے اور نہ آرام کرتا ہے ، اسی طرح جب کسی انتہائی محبوب و مرغوب چیز کے حاصل کرنے کے لئے تگ و دو کرتا ہے تو اثناء راہ میں نہ تو سوتا ہے ، نہ چین سے بیٹھتا ہے ۔ لیکن دوزخ اور جنت کے بارے میں انسانوں کا عجب حال ہے ، دوزخ سے بڑھ کر کوئی خوفناک بلا نہیں ، مگر جن کو اس سے بچنے کے لئے بھاگنا چاہئے ، وہ غفلت کی نیند سوتے ہیں ، اور جنت جس کے حاصل کرنے کے لئے دل و جان سے جدو جہد کرنا چاہئے ، اس کے چاہنے والے بھی محو خواب ہیں ۔ پردے غفلت کے پڑ گئے ہیں ، بلا کی نیندیں امنڈ رہی ہیں کچھ ایسے سوئے ہیں سونے والے ، کہ حشر تک جاگنا قسم ہے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پہلی جلد ختم ہوئی ۔ فَالْحَمْدُ لِلهِ الَّذِىْ بِعِزَّتِهِ وَجَلَالِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ اللہ تعالیٰ باقی جلدوں کی بھی تکمیل اور اشاعت کی توفیق دے بندہ ناچیز محمد منظور نعمانی عفا اللہ عنہ