Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1 - 140)
Select Hadith
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
137
138
139
140
معارف الحدیث - کتاب الایمان - حدیث نمبر 298
عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُرِيدُ اللهُ بِأَهْلِ بَيْتٍ رِفْقًا إِلَّا نَفَعَهُمْ ، وَلَا يَحْرِمُهُمْ إِيَّاهُ إِلَّا ضَرَّهُمْ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
نرم مزاجی اور درشت خوئی
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نہیں ارادہ کرتا اللہ تعالیٰ کسی گھر کے لوگوں کے لئے نرمی کی صفت عطا کرنے کا، مگر ان کو نفع پہنچاتا ہے اس کے ذریعہ، اور نہیں محروم کرتا کسی گھر کے لوگوں کو نرمی کی صفت سے مگر یہ کہ ضرر پہنچاتا ان کو۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ عام سنت اور اس کا کلی قانون ہے کہ جس گھر کے لوگوں کو وہ نرمی کی خصلت عطا فرماتا ہے ان کے لیے یہ نرمی بہت سی منفعتوں اور برکتوں کا ذریعہ بنتی ہے، اور جن لوگوں کو وہ اس اچھی خصلت سے محروم رکھتا ہے ان کے لیے یہ محرومی بہت سے نقصانات اور بہت سی زحمتوں کا سبب بنتی ہے۔ انسان کی خصلتوں میں نرمی اور سختی کی یہ خصوصیت ہے کہ ان کے استعمال کا دائرہ بہت زیادہ وسیع ہے جس شخص کے مزاج اور رویہ میں سختی ہوگی وہ اپنے گھر والوں، بیوی بچوں، عزیزوں قریبوں کے لیے سخت ہو گا، پڑوسیوں کے حق میں سخت ہو گا، اگر استاد ہے تو شاگردوں کے حق میں سخت ہو گا، اسی طرح اگر حاکم اور افسر ہے تو محکوموں اور ماتحتوں کے حق میں سخت ہو گا، غرضیکہ زندگی میں جہاں جہاں اور جن جن سے اس کا واسطہ پڑے گا ان کے ساتھ اس کا رویہ سخت ہو گا اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کی زندگی خود اس کے لئے اور اس سے تعلق رکھنے والوں کے لیے مستقل عذاب ہوگی۔ اور اس کے برعکس جس بندہ کے مزاج اور رویہ میں نرمی ہوگی وہ گھر والوں پڑوسیوں، افسروں، ماتحتوں، شاگردوں، استادوں، اپنوں، بیگانوں، غرض کہ سب کے ساتھ نرم ہو گا اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس نرمی کی بدولت وہ خود بھی راحت سے رہے گا اور دوسروں کے لئے بھی راحت اور سکون کا باعث ہو گا، پھر یہ نرمی باہم محبت و مؤدت پیدا کرے گی اور اکرام و احترام اورخیر خواہی کے جذبات کو ابھورے گی، اور اس کے برعکس درشت مزاجی اور رتندخوئی دلوں میں بغض و عداوت پیدا کرے گی، اور حسد و بد خواہی اور جنگ و جدل کے منحوس جذبات کو بھڑکائے گی۔ سختی اور نرمی کے یہ تو چند وہ دنیوی نتائج ہیں جن کا ہم روز مرہ اپنی زندگیوں میں اور اپنے ماحول میں تجربہ اور مشاہدہ کرتے رہتے ہیں (اور تھوڑے سے غور و فکر سے بہت سے ان بڑے اور دور رس نتائج کو بھی سمجھ سکتے ہیں) ان کے علاوہ اس نرم مزاجی اور درشت خوئی کے جو بے حد عظیم الشان اخروی نتائج آخرت کی زندگی میں سامنے آنے والے ہیں، ان کا تجربہ اور مشاہدہ تو اپنے وقت پر ہی ہو گا، لیکن اس دنیوی زندگی میں آخرت کے نفع و نقصان اور ثواب و عذاب کو جتنا کچھ ہم جان اور سمجھ سکتے ہیں، اس کے لئے رسول اللہ ﷺ کے اس سلسلہ کے ارشادات ہمارے لئے کافی ہیں۔
Top