معارف الحدیث - کتاب المعاملات والمعاشرت - حدیث نمبر 1719
عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ. (رواه البخارى ومسلم) وزاد مسلم فَبَلَغَ ذَالِكَ النَّبِيَّ فَلَمْ يَنْهَنَا.
عزل
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ (رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں) جبکہ نزولِ قرآن کا سلسلہ جاری تھا، ہم لوگ (یعنی بعض اصحاب) عزل کرتے تھے (اور اس کی ممانعت میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی تھی) اور صحیح مسلم کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ حضور ﷺ کو اس کی اطلاع بھی ہوئی مگر آپ ﷺ نے منع نہیں فرمایا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

تشریح
کبھی ایسا بھی ہو.تا ہے کہ آدمی کسی خاص وجہ سے (مثلاً بیوی کی صحت یا پہلے بچہ کی صحت کے تحفظ کے خیال سے) یہ نہیں چاہتا کہ اس وقت اس کی بیوی کو حمل قرار پائے، وہ اس غرض سے ایسا کرتا ہے کہ انزال کا وقت قریب آنے پر اپنے کو بیوی سے الگ کر لیتا ہے تا کہ مادہ منویہ باہر خارج ہو جائے، اسی کو عزل کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھی بعض لوگ ایسا کرتے تھے، اس کے بارے میں حضور ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے جواب دیا جس کا ذکر آگے حدیث میں آ رہا ہے اور بظاہر جس کا مفاد یہ ہے کہ یہ ممنوع اور ناجائز تو نہیں ہے لیکن اچھا بھی نہیں ہے۔ امت کے اکثر فقہا نے اس باب کی حدیثوں سے یہی سمجھا ہے اور ان کے نزدیک مسئلہ یہی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے خاص حالات اور مصالح کی وجہ سے عزل کرے تو گنجائش ہے گناہ نہیں ہے۔ لیکن فی زماننا مغربی اقوام و ممالک کی تقلید و پیروی میں بعض ملکوں میں ملکی اور قومی پیمانے پر تحدید نسل کی مہمیں جس طرح چلائی جا رہی ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ انسانی نسل بڑھنے نہ پائے، اگر بڑھتی رہی تو روٹی نہ ملے گی، اس کی اسلام میں قطعاً گنجائش نہی ہے، یہ وہی گمراہانہ نقطہ نظر ہے جس کی بناء پر زمانہ جاہلیت کے بعض عرب اپنے نومولود بچوں کو ختم کر دیتے تھے۔ قرآن پاک میں انہی سے فرمایا گیا ہے۔ لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُم مِّنْ إِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ اپنے بچوں کو مفلسی اور ناداری کی وجہ سے ختم نہ کرو، ہم تمہیں بھی روزی دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے۔ اس تمہید کے بعد عزل سے متعلق مندرجہ ذیل حدیثیں پڑھئے:
Top