معارف الحدیث - کتاب الفتن - حدیث نمبر 1937
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ، يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ. (رواه البخارى)
امت میں پیدا ہونے والے دینی انحطاط و زوال اور فتنوں کا بیان
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قریب ہے کہ ایسا زمانہ آئے گا ایک مسلمان کا اچھا مال بکریوں کا گلہ ہو جن کو لے کر وہ پہاڑیوں کی چوٹیوں اور بارش والی وادیوں کی تلاش کرے اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے بھاگ جائے۔ (صحیح بخاری)

تشریح
قرآن پاک میں قیامت کو قریب ہی بتلایا گیا ہے (اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ) رسول اللہ صلی اللہ وسلم بھی قیامت اور اس سے پہلے ظاہر ہونے والے فتنوں کا اس طرح ذکر فرماتے تھے جیسے کہ یہ سب کچھ عنقریب ہی ہونے والا ہے۔ اولا تو اس لئے کہ جو چیز آنے والی ہے اور اس کا آنا یقینی ہے اس کو قریب ہی سمجھنا چاہیے۔ دوسرے اس میں یہ بھی حکمت تھی کہ کوئی شخص اس کو بہت دور سمجھ کر مطمئن نہ ہو بیٹھے اور اس کے لیے جو کچھ کرنا چاہیے اس میں سستی نہ کرے۔ اسی اصول و معمول کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں فتنہ کے ایسے زمانے کے قریب ہونے کی آگاہی گئی ہے جب بھری پڑی آبادیوں کا حال ایسا خراب ہو جائے گا کہ وہاں رہنے والے کے لئے دین پر قائم رہنا اور اللہ و رسول کے احکام کے مطابق زندگی گزارنا قریبا ناممکن ہو جائے گا آپ نے فرمایا ایسے وقت میں وہ بندہ مومن بڑی خیریت میں ہوگا جس کے پاس چند بکریوں کا گلہ ہو وہ ان کو لے کر پہاڑیوں کی چوٹیوں پر یا ایسی وادیوں میں چلا جائے جہاں بارشیں ہوتی ہوں بکریاں اللہ کے اگائے ہوئے سبزے سے اپنا پیٹ بھرے اور یہ بندہ ان بکریوں سے گزارا کرے اور اس طرح آبادیوں کے فتنوں سے محفوظ رہے۔
Top