معارف الحدیث - کتاب المناقب والفضائل - حدیث نمبر 2088
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ: «يَا سَعْدُ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» (رواه البخارى ومسلم)
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ
حضرت علی مرتضیٰ ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے نہیں سنا، رسول خدا ﷺ سے کہ آپ ﷺ نے جمع کیا ہو اپنے ماں باپ دونوں کو کسی کے لئے (یعنی فداک ابی وامی فرمایا ہو) سوائے سعد بن مالک (یعنی سعد بن ابی وقاصؓ) کے میں نے غزوہ احد کے دن آپ کو فرماتے ہوئے سنا "يَا سَعْدُ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي" (اے سعد! تیر چلاتے رہو اسی طرح، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

تشریح
حضرت علی مرتضیٰ ؓ کے اس بیان میں حضرت سعد بن مالک سے مراد "سعد بن ابی وقاص" ہیں، ان کے والد کا نام مالک تھا، ابو وقاص کنیت تھی۔ غزوہ احد کا مختصر حال حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے تذکرہ میں بیان کیا جا چکا ہے، اس غزوہ میں صحابہ کرامؓ میں سے جو حضرات اللہ تعالیٰ کی کاص توفیق سے پوری طرح ثابت قدم رہے، ان میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بھی ہیں، یہ تیر اندازی میں بڑے ماہر تھے ...... یہ رسول اللہ ﷺ کے قریب ہی تھے، تیر پر تیر چلا رہے تھے اس وقت آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا "يَا سَعْدُ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي" (سعد! تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں اسی طرح تیر چلاتے رہو،) بلاشبہ آنحضرت ﷺ کی طرف سے یہ صرف ہمت افزائی نہ تھی، بلکہ بہتر سے بہتر الفاظ میں اپنی انتہائی دلی مسرت اور خوشنودی کا اظہار بھی تھا ..... اور شرح السنہ میں کود حضرت سعد بن ابی وقاص ہی کی روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے یہ دعا بھی فرمائی "اللهم اشدد رميته واوجب دعوته" (اے اللہ اپنے اس بندے (سعد) کی تیر اندازی میں قوت و طاقت پیدا فرما دے اور اس کی دعائیں قبول فرما۔) اور جامع ترمذی میں حضرت سعدؓ کی روایت سے آنحضرت ﷺ کی دعا کے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں۔ "اللهم استجب لسعد اذا دعاك" خداوند، سعد جب تجھ سے کوئی دعا کرے تو اس کی دعا قبول فرما لے) ..... حضور ﷺ کی اس دعاو ہی کا نتیجہ تھا کہ حضرت سعدؓ جو دعا کرتے وہ عموماً قبول ہی ہوتی، اسی لئے لوگ ان سے اپنے واسطے دعائیں کراتے تھے اور ان کی بددعا سے بہت ڈرتے تھے۔
Top