مؤطا امام مالک - ترکے کی تقسیم کے بیان میں - 1387
بَاب مِيرَاثِ الصُّلْبِ حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا وَالَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا فِي فَرَائِضِ الْمَوَارِيثِ أَنَّ مِيرَاثَ الْوَلَدِ مِنْ وَالِدِهِمْ أَوْ وَالِدَتِهِمْ أَنَّهُ إِذَا تُوُفِّيَ الْأَبُ أَوْ الْأُمُّ وَتَرَكَا وَلَدًا رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ فَإِنْ شَرِكَهُمْ أَحَدٌ بِفَرِيضَةٍ مُسَمَّاةٍ وَكَانَ فِيهِمْ ذَكَرٌ بُدِئَ بِفَرِيضَةِ مَنْ شَرِكَهُمْ وَكَانَ مَا بَقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ بَيْنَهُمْ عَلَى قَدْرِ مَوَارِيثِهِمْ وَمَنْزِلَةُ وَلَدِ الْأَبْنَاءِ الذُّكُورِ إِذَا لَمْ يَكُنْ وَلَدٌ كَمَنْزِلَةِ الْوَلَدِ سَوَاءٌ ذُكُورُهُمْ كَذُكُورِهِمْ وَإِنَاثُهُمْ كَإِنَاثِهِمْ يَرِثُونَ كَمَا يَرِثُونَ وَيَحْجُبُونَ كَمَا يَحْجُبُونَ فَإِنْ اجْتَمَعَ الْوَلَدُ لِلصُّلْبِ وَوَلَدُ الْابْنِ وَكَانَ فِي الْوَلَدِ لِلصُّلْبِ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ لَا مِيرَاثَ مَعَهُ لِأَحَدٍ مِنْ وَلَدِ الْابْنِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي الْوَلَدِ لِلصُّلْبِ ذَكَرٌ وَكَانَتَا ابْنَتَيْنِ فَأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ مِنْ الْبَنَاتِ لِلصُّلْبِ فَإِنَّهُ لَا مِيرَاثَ لِبَنَاتِ الْابْنِ مَعَهُنَّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعَ بَنَاتِ الْابْنِ ذَكَرٌ هُوَ مِنْ الْمُتَوَفَّى بِمَنْزِلَتِهِنَّ أَوْ هُوَ أَطْرَفُ مِنْهُنَّ فَإِنَّهُ يَرُدُّ عَلَى مَنْ هُوَ بِمَنْزِلَتِهِ وَمَنْ هُوَ فَوْقَهُ مِنْ بَنَاتِ الْأَبْنَاءِ فَضْلًا إِنْ فَضَلَ فَيَقْتَسِمُونَهُ بَيْنَهُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ شَيْءٌ فَلَا شَيْءَ لَهُمْ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ الْوَلَدُ لِلصُّلْبِ إِلَّا ابْنَةً وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِابْنَةِ ابْنِهِ وَاحِدَةً كَانَتْ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ مِنْ بَنَاتِ الْأَبْنَاءِ مِمَّنْ هُوَ مِنْ الْمُتَوَفَّى بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ السُّدُسُ فَإِنْ كَانَ مَعَ بَنَاتِ الْابْنِ ذَكَرٌ هُوَ مِنْ الْمُتَوَفَّى بِمَنْزِلَتِهِنَّ فَلَا فَرِيضَةَ وَلَا سُدُسَ لَهُنَّ وَلَكِنْ إِنْ فَضَلَ بَعْدَ فَرَائِضِ أَهْلِ الْفَرَائِضِ فَضْلٌ كَانَ ذَلِكَ الْفَضْلُ لِذَلِكَ الذَّكَرِ وَلِمَنْ هُوَ بِمَنْزِلَتِهِ وَمَنْ فَوْقَهُ مِنْ بَنَاتِ الْأَبْنَاءِ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ وَلَيْسَ لِمَنْ هُوَ أَطْرَفُ مِنْهُمْ شَيْءٌ فَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ شَيْءٌ فَلَا شَيْءَ لَهُمْ وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ قَالَ مَالِك الْأَطْرَفُ هُوَ الْأَبْعَدُ
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اجماعی ہے کہ جب ماں یا باپ مرجائے اور لڑکے اور لڑکیاں چھوڑ جائے تو لڑکے کو دوہرا حصہ اور لڑکی کو ایک حصہ ملے گا۔ اگر میت کی صرف لڑکیاں ہوں دو یا دو سے زیادہ تو دو ثلث ترکے کے اس کو ملیں گے اگر ایک ہی لڑکی ہے اس کو آدھاتر کہ ملے گا۔ اگر میت کے ذوی الفروض میں سے بھی کوئی ہو اور لڑکے لڑکیاں بھی ہوں تو پہلے ذوی الفروض کا حصہ دے کر جو بچ رہے گا اس میں سے دوہرا حصہ لڑکے کو اور ایک حصہ لڑکی کو ملے گا۔ اور جب بیٹے بیٹیاں نہ ہوں تو پوتے پوتیاں ان کی مثل ہوں گی جیسے وہ وارث ہوتے ہیں یہ بھی وارث ہوں گے اور جیسے وہ محجوب (محروم) ہوتے ہیں یہ بھی محجوب ہوں گے۔ اگر ایک بیٹا بھی موجود ہوگا تو بیٹے کی اولاد کو یعنی پوتے اور پوتیوں کو ترکہ نہ ملے گا اگر کوئی بیٹا نہ ہو لیکن دو بیٹیاں یا زیادہ موجود ہوں تو پوتیوں کو کچھ نہ پہنچے گا مگر جس صورت میں ان پوتیوں کے ساتھ کوئی پوتا بھی ہو خواہ انہی کے ہمرتبہ ہو یا ان سے بھی زیادہ دور ہو۔ (مثلا پوتے کا بیٹا یا پوتا ہو) تو بعد بیٹیوں کے حصے دینے کے اور باقی ذوی الفروض کے جو کچھ بچ رہے گا اس کو للذکور مثل حظ الانثییین کے بانٹ لیں گے اور اس پوتے کے ساتھ وہ پوتیاں جو اس سے زیادہ میت کے (رشتہ وتر کہ میں) قریب ہیں یا اس کے برابر ہیں وارث ہوں گی جو اس سے بھی زیادہ پوتیاں دور ہیں وہ وارث نہ ہوں گی۔ اور جو کچھ نہ بچے گا تو پوتیوں اور پوتے کو کچھ نہ ملے گا۔ اگر میت کی صرف ایک بیٹا ہو تو اس کو آدھا مال ملے گا اور پوتیوں کو جتنی ہوں چھٹا حصہ ملے گا۔ اگر ان پوتیوں کے ساتھ کوئی پوتا بھی ہو تو اس صورت میں ذوی الفورض کے حصے ادا کردیں گے اور جو بچ رہے گا وہ للذکر مثل حظ الانثیین پوتا اور پوتیاں تقسیم کرلیں گی اور یہ پوتا ان پوتیوں کو حصہ دلادے گا جو اس کے ہمرتبہ ہوں یا اس سے زیادہ قریب ہوں مگر جو اس سے بعید ہوں گی وہ محروم ہوں گی اگر ذوی الفروض سے کچھ نہ بچے تو ان پوتے پوتیوں کو کچھ نہ ملے گا کیونکہ اللہ جل جلالہ اپنی کتاب میں ارشاد فرماتے ہیں کہ وصیت کرتا ہے تم کو اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد میں مرد کو دوہرا حصہ اور عورت کو ایک اگر سب بیٹیاں ہوں دو سے زیادہ تو ان کو دوتہائی مال ملے گا اگر ایک بیٹی ہو تو اس کو نصف ملے گا۔
Top