مشکوٰۃ المصابیح - - حدیث نمبر 1639
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا عَادَ الرَّجُلُ الْمَرِيضَ خَاضَ الرَّحْمَةَ حَتَّی إِذَا قَعَدَ عِنْدَهُ قَرَّتْ فِيهِ أَوْ نَحْوَ هَذَا عَنْ ابْنِ عَطِيَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَی وَلَا هَامَ وَلَا صَفَرَ وَلَا يَحُلَّ الْمُمْرِضُ عَلَی الْمُصِحِّ وَلْيَحْلُلْ الْمُصِحُّ حَيْثُ شَائَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا ذَاکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ أَذًی
بیمار پرسی اور فال بد کا بیان
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی تم میں سے بیمار کو دیکھنے جاتا ہے تو گھس جاتا ہے پروردگار کی رحمت میں پھر جب وہاں بیٹھتا ہے تو وہ رحمت میں اس شخص کے اندر بیٹھ جاتی ہے یا مثل اس کے کچھ فرمایا۔ ابن عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں ہے عدوی اور نہ صفر کا مہینہ لیکن بیماری اونٹ تندرست اونٹ کے پاس نہ اتارا جائے البتہ جس شخص کا اونٹ اچھا ہو اس کو اختیار ہے جہاں چاہے اترے لوگوں نے پوچھا اس کا کیا سبب ہے یا رسول اللہ ﷺ؟ آپ ﷺ نے فرمایا مرض سے نفرت ہوتی ہے یا تکلیف ہوتی ہے۔
Top