Mauwatta Imam Malik 1293
مضاربت میں قرض کا بیان
بَاب السَّلَفِ فِي الْقِرَاضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ أَسْلَفَ رَجُلًا مَالًا ثُمَّ سَأَلَهُ الَّذِي تَسَلَّفَ الْمَالَ أَنْ يُقِرَّهُ عِنْدَهُ قِرَاضًا قَالَ مَالِك لَا أُحِبُّ ذَلِكَ حَتَّى يَقْبِضَ مَالَهُ مِنْهُ ثُمَّ يَدْفَعَهُ إِلَيْهِ قِرَاضًا إِنْ شَاءَ أَوْ يُمْسِكَهُ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَدْ اجْتَمَعَ عِنْدَهُ وَسَأَلَهُ أَنْ يَكْتُبَهُ عَلَيْهِ سَلَفًا قَالَ لَا أُحِبُّ ذَلِكَ حَتَّى يَقْبِضَ مِنْهُ مَالَهُ ثُمَّ يُسَلِّفَهُ إِيَّاهُ إِنْ شَاءَ أَوْ يُمْسِكَهُ وَإِنَّمَا ذَلِكَ مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ قَدْ نَقَصَ فِيهِ فَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَهُ عَنْهُ عَلَى أَنْ يَزِيدَهُ فِيهِ مَا نَقَصَ مِنْهُ فَذَلِكَ مَكْرُوهٌ وَلَا يَجُوزُ وَلَا يَصْلُحُ
کہا مالک نے ایک شخص کا قرض دوسرے پر آتا ہو قرض خواہ مقروض سے کہے تو میرا روپیہ اپنے پاس رہنے دے۔ مضاربت کے طور پر تو یہ درست نہیں البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ قرض خواہ اپنا قرض وصول کر کے پھر چاہے تو مضاربت کے طور پردے یا نہ دے۔ کہا مالک نے اگر مضارب رب المال سے یہ کہے میرے پاس سب روپیہ مضاربت کا جمع ہے مگر تو اس روپے کو مجھے قرض دے دے تو یہ درست نہیں بلکہ مالک کو چاہیے کہ روپیہ اپنا لے کر پھر چاہے قرض دے