Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1 - 136)
Select Hadith
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
مشکوٰۃ المصابیح - ایمان کا بیان - حدیث نمبر 2971
عن سعيد بن زيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين
غصب کرنیوالیوالے کی سزا
حضرت سعید ابن زید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی کی بالشت بھر زمین بھی ازراہ ظلم لے گا قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں بطور طوق ڈالی جائے گی ( بخاری ومسلم)
تشریح
کسی کی کوئی بھی چیز خواہ وہ زیادہ ہو یا کتنی کم ہو اور راہ زور زبردستی چھین لینا یا ہڑپ کرلینا نہ صرف سماجی طور پر ایک ظلم اور اخلاقی طور پر ایک بھیانک برائی ہے بلکہ شرعی طور پر بھی انتہائی سخت جرم اور گناہ ہے۔ اسلام نے انسانی حقوق کے تحفظ کا جو اعلی تصور پیش کیا ہے اور اسلامی شریعت نے حقوق العباد پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو جن سخت سزاؤں اور عقوبتوں کا مستوجب گردانا ہے۔ یہ حدیث گرامی اس کا ایک نمونہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص کسی دوسرے کی زمین کا ایک بالشت بھر حصہ بھی زبردستی ہتھیائے گا اسے اس کے ظلم وجور کی یہ سزا دی جائے گی کہ قیامت کے دن زمین کا صرف وہی حصہ نہیں جو وہ غصب کرے گا بلکہ ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین لے کر اس کے گلے میں بطور طوق ڈالی جائے گی العیاذ باللہ۔ شرح السنۃ میں طوق ڈالنے کا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص کسی کی زمین کا بالشت بھر حصہ بھی غصب کرے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے زمین میں دھنسائے گا چناچہ زمین کا وہ قطعہ جو اس نے غصب کیا ہوگا اس کے گلے کو طوق کی مانند جکڑ لے گا۔
Top