Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1 - 136)
Select Hadith
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
مشکوٰۃ المصابیح - ایمان کا بیان - حدیث نمبر 4706
وعن صخر بن عبد الله بن بريدة عن أبيه عن جده قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن من البيان سحرا وإن من العلم جهلا وإن من الشعر حكما وإن من القول عيالا . رواه أبو داود
بعض علم جہالت ہوتے ہیں
اور حضرت صخرا بن عبداللہ ابن بریدہ اپنے والد (حضرت عبداللہ) سے اور وہ صخر کے دادا حضرت بریدہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بعض بیان جادو کی مانند ہوتے ہیں بعض علم جہالت ہوتے ہیں بعض اشعار فائدہ مند یعنی حکمت و دانائی سے پر ہوتے ہیں اور بعض قول و کلام وبال جان ہوتا ہے۔ (ابوداؤد)۔
تشریح
۔ بعض علم جہالت ہوتے ہیں کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ کسی شخص نے ایسا علم حاصل کیا جو بذات خود نہ تو فائدہ مندہو اور نہ اس کی طرف احتیاج و ضرورت ہو جیسے علم جعفر و رمل یا علم نجوم وفلاسفہ وغیرہ اور اس بےفائدہ علم میں مشغولیت کی وجہ سے وہ ضروری علوم حاصل کرنے سے محروم رہا ہے جن سے لوگوں کی احتیاج و ضرورت وابستہ ہوتی ہے جیسے قرآن و حدیث اور دین کے علوم، تو ظاہر ہے کہ اس صورت میں یہی کہا جائے گا کہ اس شخص نے جو بےفائدہ علم حاصل کیا اس علم نے دوسرے ضروری علوم سے اس کی محرومی و جاہل رکھا ہے جس کا حاصل یہ ہو کہ بعض علوم درحقیقت جہل کو لازم کرتے ہیں اور اسی اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ بعض علم جہالت ہوتے ہیں۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ علم حاصل کرنے والا اپنے علم پر عمل پیرا نہ ہوا، اس اعتبار سے وہ شخص عالم ہونے کے باجود جاہل قرار پائے گا کیوں کہ جو شخص علم رکھے اور عمل نہ کرے تو وہ گویا جاہل ہے۔ علاوہ ازیں اس ارشاد گرامی سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جو شخص علم کا دعوی کرتا ہے اور اپنے گمان کے مطابق خود کو عالم سمجھتا ہے مگر حقیقت میں وہ عالم نہیں ہے تو اس کا یہ علم جس کا اس نے دعوی کیا ہے علم نہیں ہے بلکہ سراسر جہالت ونادانی ہے۔ بعض قول و کلام وبال جان ہوتا ہے، کا مطلب ہے کہ کسی شخص نے کوئی ایسی بات کہی جس کی وجہ سے وہ خود کسی آفت میں مبتلا ہوگیا یا جس شخص نے اس بات کو سنا وہ کسی ملال ودل براشتگی میں مبتلا ہوگیا، بایں طور کہا اگر وہ سننے والاجاہل تھا تو وہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی اور اگر عالم تھا تو اس کے لئے لاحاصل تھی یا وہ کوئی ایسی بات جس کو سننے والا پسند نہیں کرتا اور اس بت کی وجہ سے اس کو رنج وملال ہوتا ہے تو ان صورتوں میں یہی کہا جائے گا کہ کہنے والے وہ قول و کلام وبال وملال کا ذریعہ بن گیا ہے۔
Top