Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 3857
وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحرب خدعة
جنگ مکروفریب نام ہے
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنگ مکروفریب (کا نام) ہے۔ (بخاری ومسلم )
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جنگ میں لشکر کی زیادہ تعداد اور بہت لڑنا کار آمد ومفید نہیں جتنا مکروفریب مفید ہوتا ہے، جس کو آج کے مہذب الفاظ میں حکمت عملی بھی کہتے ہیں۔ اسی مکروفریب یا حکمت عملی کا کرشمہ ہوتا ہے کہ پوری جنگ ایک ہی داؤ سے ختم ہوجاتی ہے جو داؤ کھاتا ہے مارا جاتا ہے اور داؤ مارنے والا جنگ پر غالب آجاتا ہے۔ چناچہ بہترین کمانڈر وہی کہلاتا ہے جو میدان جنگ میں اپنی تدبیر اور حکمت عملی سے دشمن کی بڑی سے بڑی فوج کو پسپا ہونے پر مجبور کر دے۔ اگرچہ علماء اسلام نے متفقہ طور پر کفار کے ساتھ جانے والی جنگ میں مکروفریب کو جائز قرار دیا ہے لیکن اس بارے میں کچھ حدود بھی مقرر کی ہیں تاکہ اسلام کی اخلاقی تعلیمات پر کوئی حرف نہ آئے چناچہ انہوں نے لکھا ہے کہ مکروفریب کا رستہ اختیار کرنے کی صورت میں پہلی بات تو یہ ملحوظ ہونی چاہئے کہ کھلا ہوا جھوٹ نہ بولا جائے اور یہ کہ کسی بھی ایسی صورت میں مکر و فریب نہ کیا جائے جس میں مسلمانوں کی طرف سے دیا ہوا عہد امان توڑا جائے۔ پھر علماء نے فریب دینے کی کچھ صورتیں بھی متعین کردی ہیں مثلًا اس طرح فریب دیا جائے کہ اسلامی لشکر میدان جنگ سے ہٹ جائے یا جنگ بند کر دے تاکہ دشمن غافل ہوجائے اور یہ سمجھ لے کہ اسلامی لشکر جنگ سے بھاگ گیا ہے اور پھر دشمن کی اس غفلت سے فائدہ اٹھا کر اس یکبارگی حملہ کردیا جائے، اس طرح کی ایسی کوئی بھی حکمت عملی اختیار کی جائے جس میں مذکورہ بالا دونوں امور کا لحاظ ہو۔ حدیث میں مذکور لفظ خدعتہ اصل میں تو خ کے پیش اور دال کے جزم کے ساتھ یعنی خدعۃ ہے لیکن زیادہ فصیح خ کے زبر کے ساتھ یعنی خدعۃ ہے جس کے معنی یہی ہیں کہ لڑائی ایک ہی فریب (داؤ) سے ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن یہ لفظ خ کے زیر کے ساتھ (یعنی لفظ فریب کا اہم نوع خدعۃ اور خ کے پیش اور دال کے زبر کے ساتھ یعنی خدعۃ بھی منقول ہے، اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ جنگ بہت دھوکے میں ڈالنے والی ہے یعنی جو لوگ دشمن کے مقابلہ پر جاتے ہیں ان کے دل میں طرح طرح کے خیال پیدا ہوتے ہیں لیکن جب وہ میدان جنگ میں پہنچتے ہیں اور لڑائی ہوتی ہے تو ان کے خیالات کے برعکس نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ کوئی شخص فتح پانے اور دشمن کو مار ڈالنے کا خیال لے کرجاتا ہے مگر میدان جنگ میں شکت کا سامنا کرتا ہے اور خود مارا جاتا ہے اسی طرح کوئی شخص شکست و ناکامی کے مایوس کن خیالات لے کرجاتا ہے مگر وہاں جنگ کا پانسہ پلٹ جاتا ہے اور وہ کامیاب وکامران ہو کر آتا ہے غرضیکہ جنگ اسی طرح دھوکے اور فریب میں مبتلا کرنے والی چیز ہے
Top