Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1819 - 2091)
Select Hadith
1819
1820
1821
1822
1823
1824
1825
1826
1827
1828
1829
1830
1831
1832
1833
1834
1835
1836
1837
1838
1839
1840
1841
1842
1843
1844
1845
1846
1847
1848
1849
1850
1851
1852
1853
1854
1855
1856
1857
1858
1859
1860
1861
1862
1863
1864
1865
1866
1867
1868
1869
1870
1871
1872
1873
1874
1875
1876
1877
1878
1879
1880
1881
1882
1883
1884
1885
1886
1887
1888
1889
1890
1891
1892
1893
1894
1895
1896
1897
1898
1899
1900
1901
1902
1903
1904
1905
1906
1907
1908
1909
1910
1911
1912
1913
1914
1915
1916
1917
1918
1919
1920
1921
1922
1923
1924
1925
1926
1927
1928
1929
1930
1931
1932
1933
1934
1935
1936
1937
1938
1939
1940
1941
1942
1943
1944
1945
1946
1947
1948
1949
1950
1951
1952
1953
1954
1955
1956
1957
1958
1959
1960
1961
1962
1963
1964
1965
1966
1967
1968
1969
1970
1971
1972
1973
1974
1975
1976
1977
1978
1979
1980
1981
1982
1983
1984
1985
1986
1987
1988
1989
1990
1991
1992
1993
1994
1995
1996
1997
1998
1999
2000
2001
2002
2003
2004
2005
2006
2007
2008
2009
2010
2011
2012
2013
2014
2015
2016
2017
2018
2019
2020
2021
2022
2023
2024
2025
2026
2027
2028
2029
2030
2031
2032
2033
2034
2035
2036
2037
2038
2039
2040
2041
2042
2043
2044
2045
2046
2047
2048
2049
2050
2051
2052
2053
2054
2055
2056
2057
2058
2059
2060
2061
2062
2063
2064
2065
2066
2067
2068
2069
2070
2071
2072
2073
2074
2075
2076
2077
2078
2079
2080
2081
2082
2083
2084
2085
2086
2087
2088
2089
2090
2091
سنن النسائی - طلاق سے متعلقہ احادیث - حدیث نمبر 4949
زکوۃ کا بیان
زکوٰۃ کے لفظی معنی ہیں طہارت و برکت اور بڑھنا اصطلاح شریعت میں زکوٰۃ کہتے ہیں اپنے مال کی مقدار متعین کے اس حصہ کو جو شریعت نے مقرر کیا ہے کسی مستحق کو مالک بنادینا زکوٰۃ کے لغوی معنی اور اصطلاحی معنی دونوں کو سامنے رکھ کر یہ سمجھ لیجیے کہ یہ فعل یعنی اپنے مال کی مقدار متعین کے ایک حصہ کا کسی مستحق کو مالک بنادینا) مال کے باقی ماندہ حصے کو پاک کردیتا ہے اس میں حق تعالیٰ کی طرف سے برکت عنایت فرمائی جاتی ہے اور اس کا وہ مال نہ صرف یہ کہ دنیا میں بڑھتا اور زیادہ ہوتا ہے بلکہ اخروی طور پر اللہ تعالیٰ اس کے ثواب میں اضافہ کرتا ہے اور اس کے مالک کو گناہوں اور دیگر بری خصلتوں مثلاً بخل وغیرہ سے پاک و صاف کرتا ہے اس لئے اس فعل کو زکوٰۃ کہا جاتا ہے۔ زکوۃ کو صدقہ بھی اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ فعل اپنے مال کا ایک حصہ نکالنے والے کے دعویٰ ایمان کی صحت و صداقت پر دلیل ہوتا ہے۔ زکوۃ کب فرض ہوئی؟ صدقہ فطر ٢ ہجری میں واجب کیا گیا تھا زکوٰۃ کی فرضیت کے بارے میں اگرچہ علماء کے یہاں اختلافی اقوال ہیں مگر صحیح قول یہ ہے کہ زکوٰۃ کی فرضیت کا حکم ہجرت سے پہلے مکہ میں نازل ہوگیا تھا مگر اس حکم کا نفاذ مدینہ میں ہجرت کے دوسرے سال رمضان کی پہلی تاریخ کو ہوا ہے گویا زکوٰۃ یکم رمضان ٢ ہجری میں فرض قرار دی گئی اور اس کا اعلان کیا گیا۔ زکوۃ تمام امتوں پر فرض تھی اجتماعی طور پر یہ مسئلہ ہے کہ زکوٰۃ انبیاء کرام پر فرض و واجب نہیں ہے البتہ جس طرح سابقہ تمام امتوں پر نماز فرض تھی اسی طرح امت محمدی سے پہلے ہر امت پر زکوٰۃ فرض تھی ہاں زکوٰۃ کی مقدار اور مال کی تحدید میں اختلاف ضرور رہا ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ زکوٰۃ کے بارے میں اسلامی شریعت کے احکام بہت آسان اور سہل ہیں جب کہ سابقہ انبیاء کی شریعتوں میں اتنی آسانی نہیں تھی۔ زکوۃ کی اہمیت اور اس کی تاکید قرآن مجید میں بتیس جگہ زکوٰۃ کا ذکر نماز کے ساتھ فرمایا گیا ہے جس سے نہ صرف یہ کہ نماز روزہ اور زکوٰۃ دونوں کے کمال اتصال کا اظہار ہوتا ہے بلکہ یہ زکوٰۃ کی فضیلت و تاکید کی دلیل بھی ہے پھر یہ کہ قرآن کریم میں بہت سی جگہ زکوٰۃ کا علیحدہ بھی ذکر فرمایا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ ادا کرنے والوں کو دنیاوی و اخروی اجر وثواب اور سعادت و نیک بختی کے دل کش و سچے وعدوں سے سرفراز فرمایا ہے اور اس کی ادائیگی سے باز رہنے والوں کو جیسے سخت عذاب کی خبر دی گئی ہے کہ اللہ شاہد اہل ایمان کے قلوب ان کے تصور سے بھی کانپ اٹھتے ہیں کیسے بدبخت ہیں وہ لوگ جو اس اہم فریضہ کی ادائیگی سے باز رہتے ہیں اور ان عذابوں کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔ (العیاذ باللہ) چونکہ زکوٰۃ اسلام کا ایک بڑا رکن ہے اور اس کی فرضیت قطعی ہے اس لئے زکوٰۃ کا انکار کرنے والا کافر اور زکوٰۃ ادا نہ کرنے والا فاسق اور شدید ترین گنہگار ہوتا ہے بلکہ علماء لکھتے ہیں کہ زکوٰۃ نہ دینے والا اس قابل ہے کہ اسے قتل کردیا جائے (محیط السرخسی) مال پر ایک سال کامل گزر جانے کے بعد صاحب نصاب پر علی الفور زکوٰۃ واجب ہوجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی ادائیگی میں تاخیر گناہ گار بناتی ہے بعض حضرات نے کہا ہے کہ سال پورا ہوجانے پر علی الفور زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی بلکہ علی التراخی واجب ہوتی ہے یہاں تک کہ موت کے وقت گناہ گار ہوتا ہے۔ زکوۃ کن لوگوں پر فرض ہے ہر اس آزاد عاقل اور بالغ مسلمان پر زکوٰۃ فرض ہے جو نصاب (یعنی مال کی وہ خاص مقدار جس پر شریعت نے زکوٰۃ فرض کی ہے) کا مالک ہو اور مال کامل ایک سال تک اس کی ملکیت میں رہا ہو نیز وہ مال دین یعنی قرض اور ضرورت اصلیت سے فارغ ہو اور نامی (یعنی بڑھنے والا ہو) خواہ حقیقۃ خواہ تقدیراً اسی طرح مال میں اس کی ملکیت پوری طرح اور کامل ہو۔ کافر، غلام دیوانے اور نابالغ لڑکے پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے اور نہ اس مالک نصاب پر زکوٰۃ واجب ہے جس کے نصاب پر پورا ایک سال نہ گزرا ہو، ہاں اگر کوئی شخص سال کی ابتدائی اور آخری حصوں میں مالک نصاب رہے اور درمیان مالک نصاب نہ رہے تو اسے زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی کیونکہ یہ بھی پورے ایک سال ہی کے حکم میں ہوگا۔ قرض دار پر اس کے بقدر فرض مال میں زکوٰۃ فرض نہیں ہاں جو مال قرض سے زائد ہو اور وہ حد نصاب کو پہنچتا ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب ہوگئی لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ وہ قرض زکوٰۃ کے لئے مانع وجوب ہے جس کا مطالبہ بندوں کی طرف سے ہو، چناچہ نذر، کفارات فطرہ اور ان جیسے دوسرے مطالبات جن کا تعلق صرف اللہ جل شانہ کی ذات سے ہے اور کسی بندے کو ان کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں پہنچتا زکوٰۃ کے لئے مانع وجوب نہیں ہیں۔ ہاں ایسے قرض جن کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ ہی سے مگر ان کے مطالبہ وصول کرنے کا حق بندوں کو پہنچتا ہے جیسے زکوٰۃ عشر، خراج وغیرہ کہ امام وقت اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کا مطالبہ کرسکتا ہے تو یہ بھی زکوٰۃ کے لئے مانع وجوب ہیں مگر امام وقت اور حاکم مال ظاہر میں مطالبہ کرسکتا ہے مثلاً مویشی وہ مال تجارت جو شہر میں لایا جائے یا شہر سے باہر لے جایا جائے اور نقدی لیکن وہ مال جس کی تجارت صرف شہر کے اندر اندر ہی محدود ہو اس میں حاکم کا مطالبہ اور اگر بیوی مہر کا تقاضا کرتی ہو تو اس کے مہر کے بقدر مال میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ بحرالرائق میں ہے کہ معتمد مسلک یہ ہے کہ فرض زکوٰۃ اور صدقہ فطر کے لئے مانع وجوب ہے نیز مطلقاً قرض مانع ہے خواہ معجل ہو یا موجل، اگرچہ بیوی کا مہر موجل ہی کیوں نہ ہو جس کی مدت تاجیل طلاق یا موت پر ختم ہوجاتی ہے لیکن بعض حضرات فرماتے ہیں کہ مہر موجل زکوٰۃ کے لئے مانع وجوب نہیں ہے کیونکہ عام طور پر اس کا مطالبہ نہیں ہوا کرتا بخلاف مہر معجل کے کہ اس کا مطالبہ ہوتا ہے مگر بعض علماء نے اس بارے میں یہ لکھا ہے کہ اگر خاوند ادائیگی مہر کا ارادہ رکھتا ہو تو مہر موجل زکوٰۃ کے لئے مانع وجوب ہے ورنہ نہیں کیونکہ اس کا شمار قرض میں نہیں ہوتا۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد رحمہم اللہ کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے کہ اگر کسی عورت کا خاوند تونگر یعنی مالدار ہو تو وہ اپنے مہر کی وجہ سے (کہ جو اس کے خاوند کے ذمہ باقی ہے) غنیہ سمجھی جائے گی یا نہیں؟ صاحبین کا مسلک تو یہ ہے کہ ایسی عورت غنیہ معتبر ہوگی یعنی مستحق زکوٰۃ نہیں ہوگی حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا آخری قول یہ ہے کہ وہ غنیہ معتبر نہیں ہوگی، لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ اختلاف صرف مہر معجل کے بارے میں ہے مہر موجل کی صورت میں تینوں حضرات کا متفقہ مسلک یہ ہے کہ ایسی عورت غنیہ معتبر نہیں ہوگی۔ ضرورت اصلیہ کا مطلب ضرورت اصلیہ سے مراد یہ چیزیں ہیں رہائش کا مکان، پہننے کے کپڑے خانہ داری کے اسباب سواری کی چیزیں مثلاً گھوڑا گاڑی موٹر سائیکل وغیرہ خدمت کے غلام استعمال کے ہتھیار، اہل علم کے لئے ان کی کتابیں کاریگر کے واسطے اس کے پیشہ کے اوزار وغیرہ، لہٰذا مثال کے طور پر اگر کسی شخص نے کوئی مکان تجارت کی نیت سے لیا اور وہ مکان اس کی رہائش سے فارغ بھی ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی اسی طرح دوسری چیزوں کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے اگر مکان و غلام وغیرہ اپنی ضرورت و حاجت سے فارغ ہوں اور ان کی تجارت کی نیت نہ ہو تو پھر ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ کامل ملکیت ابھی پہلے زکوٰۃ واجب ہونے کی شرائط بیان کرتے ہوئے یہ شرط بھی بیان کی گئی تھی کہ مال میں اس کی ملکیت پوری طرح اور کامل ہو۔ لہٰذا اس کامل ملکیت سے مراد یہ ہے کہ مال کا اصل مالک بھی ہو اور وہ مال اس کے قبضہ وقدرت میں بھی ہو جو مالک ملک اور قبضہ میں نہ ہو یا ملک میں ہو قبضے میں نہ ہو یا قبضہ میں ہو تو اس پر زکوٰۃ فرض نہیں۔ لہٰذا مکاتب کے کے کمائے ہوئے مال میں زکوٰۃ نہیں نہ خود مکاتب پر نہ اس کے مولیٰ پر اس لئے کہ وہ مال مکاتب کی ملکیت میں نہیں گو اس کے قبضہ میں ہے اسی طرح مولیٰ کے قبضہ میں نہیں ہے گو ملک میں ہے۔ اسی طرح ضمار میں بھی زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی کیونکہ وہ مال ملکیت میں تو ہوتا ہے مگر قبضہ میں نہیں ہوتا۔ مال ضمار اس کو کہتے ہیں جو اپنی رسائی سے باہر ہو اس کی کئی قسمیں ہوتی ہیں (١) وہ مال جو جاتا رہے یعنی گم ہوجائے (٢) وہ مال جو جنگل میں دفن کردیا گیا ہو مگر وہ جگہ کہ جہاں اسے دفن کیا گیا تھا بھول جائے (٣) وہ مال جو دریا میں غرق ہوگیا، (٤) وہ مال جسے کوئی شخص زبردستی چھین لے مگر اس کا کوئی گواہ نہ ہو (٥) وہ مال جو کسی ظالم نے ڈندے کے طور لے لیا۔ (٦) وہ مال جو کسی نے بطور قرض لیا اور بعد میں قرضدار قرض کا منکر ہوگیا اور کوئی تمسک یا گواہی اس کی نہ ہو۔ پس مال ضمار کی یہ دو قسمیں ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی مال ہاتھ لگ جائے تو اس مال میں پچھلے دنوں کی زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی ہاں اگر وہ مال ہاتھ لگ جائے جو جنگل میں بلکہ گھر میں دفن کر کے اس کی جگہ بھول گیا تھا تو جب بھی وہ مال نکلے گا اس میں پچھلے دنوں کی زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اسی طرح قرض کے اس مال میں بھی زکوٰۃ واجب ہوگی جس سے قرض دار انکار نہ کرتا ہو خواہ وہ قرضدار تونگر ہو یا مفلس اور یا اگر انکار کرتا ہو تو کوئی تمسک یا گواہی ہو یا خود قاضی یہ جانتا ہو کہ اس نے اتنا مال قرض لیا تھا لیکن اس مال میں زکوٰۃ اس تفصیل کے ساتھ واجب ہوگی کہ۔ (١) اگر وہ قرض مال تجارت کے بدلہ میں ہو تو جب نصاب کا پانچواں حصہ وصول ہوجائے تو پچھلے دنوں زکوٰۃ ادا کرے (٢) اگ وہ قرض مال تجارت کے بدلہ میں نہ ہو مثلاً گھر کے پہننے کے کپڑے فروخت کئے یا خدمت کا غلام فروخت کیا یا رہائش کا مکان فروخت کیا اور ان کی قیمت خریدنے والے کے ذمہ قرض رہی تو اس میں پچھلے دنوں کی زکوٰۃ اسی وقت واجب ہوگی جب کہ بقدر نصاب وصول ہوجائے (٣) اگر قرض اس چیز کے بدلہ میں ہو جو مال نہیں ہے جیسے مہر، وصیت اور بدل خلع وغیرہ تو اس میں زکوٰۃ اسی وقت واجب ہوگی جب کہ بقدر نصاب وصول ہوجائے اور اس پر پورا ایک سال گزر جائے یعنی اس میں پچھلے دنوں کی زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی بلکہ صرف اسی سال کی زکوٰۃ واجب ہوگی جس میں کہ وہ مال پر قابض رہا لیکن یہ حکم اسی شخص کے بارے میں ہے جو پہلے سے صاحب نصاب نہ ہو اگر پہلے سے صاحب نصاب ہوگا تو یہ مال اس کے حق میں بمنزلہ مال مستفاد کے ہوگا، پہلے مال کے ساتھ اس مال کی بھی زکوٰۃ واجب ہوگی اور ایک سال کا گزرنا شرط نہیں ہوگا۔ ادائیگی زکوٰۃ کے لئے نیت شرط ہے ادائیگی زکوٰۃ کے لئے یہ شرط ہے کہ زکوٰۃ دینے والا زکوٰۃ دیتے وقت نیت کرے یعنی دل میں یہ ارادہ کرے کہ میرے اوپر جس قدر مال کا دینا فرض تھا میں محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے دیتا ہوں یا جس وقت اپنے مال میں سے زکوٰۃ کا حصہ نکالے اسی وقت زکوٰۃ کی نیت کرے کہ میں اس قدر جو زکوٰۃ دینے کے لئے ہے نکالتا ہوں۔ اگر کوئی شخص اپنا تمام مال اللہ کی راہ میں خیرات کر دے اور زکوٰۃ کی نیت نہ کرے تو اس کے ذمہ زکوٰۃ ساقط ہوجاتی ہے یعنی اس پر زکوٰۃ کا مطالبہ باقی نہیں رہتا بشرطیکہ اس نے وہ مال کسی اور واجب کی نیت سے نہ دیا ہو وہاں اگر کسی شخص نے پورا مال تو نہیں بلکہ تھوڑا سا بغیر نیت زکوٰۃ اللہ کی راہ میں خیرات کردیا تو حضرت امام محمد (رح) کے نزدیک اس مال کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی مگر حضرت امام ابویوسف کے ہاں اس مال کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا بھی یہی قول منقول ہے اور اسی قول پر فتویٰ بھی ہے۔ زکوٰۃ کو ساقط کرنے کے لئے حیلہ کرنا مکروہ ہے یعنی اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ مال زکوٰۃ کی ادائیگی سے بچ جائے اور اس کی صورت یہ کرے کہ جب سال پورا ہونے کو ہو تو کچھ دن پہلے اپنا مال دوسرے کو ہبہ کر کے اسے قابض کر دے اور اس طرح زکوٰۃ کی ادائیگی سے بچ جائے اگرچہ اس صورت سے زکوٰۃ تو ساقط ہوجاتی ہے مگر یہ کوئی اچھا فعل نہیں ہے۔ اگر کسی شخص نے کوئی غلام تجارت کے لئے خریدا مگر بعد میں اس سے خدمت لینے کی نیت ہوگئی تو وہ غلام تجارت کے لئے نہیں رہے گا بلکہ خدمت ہی کے لئے ہوجائے گا اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے کوئی غلام خدمت کی نیت سے خریدا پھر بعد میں اس نے تجارت کی نیت کرلی تو وہ غلام اس وقت تک تجارت کے حکم میں داخل نہیں ہوگا جب تک کہ وہ شخص اسے فروخت نہ کرے۔ فراختگی کے بعد اس کی قیمت میں زکوٰۃ واجب ہوجائے گی۔ نصاب کی تعریف نصاب زکوٰۃ مال کی اس خاص مقدار کو کہتے ہیں جس پر شریعت نے زکوٰۃ فرض کی ہے اور جس مقدار سے کم مال میں زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی مثلاً اونٹ کے لئے پانچ اور پچیس وغیرہ کا عدد، بکری کے لئے چالیس اور ایک اکیس وغیرہ کا عدد اور چاندی کے لئے دو سو درہم اور سونے کے لئے بیس مثقال۔ نصاب کی قسمیں نصاب کی دو قسمیں ہیں۔ نامی یعنی بڑھنے والا مال اور غیر نامی یعنی نہ بڑھنے والا مال پھر نامی کی دو قسمیں ہیں حقیقی اور تقدیری حقیق کا اطلاق تو تجارت کے مال اور جانور پر ہوتا ہے کیونکہ تجارت کا مال نفع سے بڑھتا ہے اور جانور بچوں کی پیدائش سے بڑھتے ہیں۔ تقدیری کا اطلاق سونے چاندی پر ہوتا ہے کہ یہ چیزیں بظاہر تو نہیں بڑھتیں لیکن بڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں نصاب غیر نامی کا اطلاق مکانات اور خانہ داری کے ان اسباب پر ہوتا ہے جو ضرورت اصلیہ کے علاوہ ہوں۔ نصابی اور غیر نصابی میں فرق نصاب نامی اور غیر نامی میں فرق یہ ہے کہ نصاب نامی کے مالک پر تو زکوٰۃ فرض ہوتی ہے نیز اس کے لئے دوسرے زکوۃ، نذر اور صدقات واجبہ کا مال لینا درست نہیں ہوتا اور اس کے لئے صدقہ فطر دینا اور قربانی کرنا واجب ہوتا ہے۔ نصاب غیر نامی کے مالک پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی مگر اس کے لئے بھی زکوٰۃ نذر اور صدقہ واجبہ کا مال لینا درست نہیں ہوتا نیز اس پر بھی صدقہ فطر دینا اور قربانی کرنا واجب ہوتا ہے۔
Top