Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 3033
عطایا کا بیان
عطایا لفظ عطیہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں بخشش یعنی اپنی کسی چیز کی ملکیت اور اس کے حق تصرف کو کسی دوسرے کی طرف منتقل کردینا یا کسی کو اپنی کوئی چیز بلا کسی عوض دے دینا چناچہ اس باب میں عطاء و بخشش کی تمام قسموں مثلًا وقف ہبہ عمری اور رقبی کا ذکر کیا جائے گا۔ ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ عطایا سے مراد امراء و سلاطین اور سربراہان مملکت کی بخششیں اور ان کے انعام ہیں۔ امام غزالی نے منہاج العابدین میں لکھا ہے کہ امراء و سلاطین کی بخششوں اور سرکاری انعامات کو قبول کرنے کے سلسلے میں میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں چناچہ بعض علاء تو یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ بخشش انعام کسی ایسے مال کی صورت میں ہو جس کے حرام ہونے کا یقین نہ ہو تو اسے قبول کرلینا درست ہے لیکن بعض حضرات کا یہ قول ہے کہ جب تک اس مال کے حلال ہوجانے کا یقین نہ ہو تو اسے قبول نہ کرنا ہی اولی ہے اور زیادہ بہتر ہے کیونکہ موجودہ زمانے میں سلاطین کے پاس اور سرکاری خزانوں میں اکثر وبیشتر غیرشرعی ذرائع سے حاصل ہونیوالا مال وزر ہوتا ہے۔ بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ غنی اور فقیر (یعنی مستطیع ومفلس) دونوں کے لئے امراء و سلاطین کے صلے (تحفے وہدایا) حلال ہیں جب کہ ان کا مال حرام ہونا تحقیقی طور پر ثابت نہ ہو۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اسکندریہ کے بادشاہ مقوقس کا تحفہ قبول فرمایا تھا اور ایک یہودی سے قرض لیا تھا باوجود یہ کہ یہودیوں کے بارے میں قرآن کریم نے آیت (اکالون للسحت) ( حرام مال کھانیوالے) فرمایا ہے۔ اور بعضوں نے یہ کہا ہے کہ جس مال کے حرام ہونے کا یقین نہ ہو وہ فقیر (مفلس) کے لئے تو حلال ہے لیکن غنی مستطیع کے لئے حلال نہیں ہے۔ آخر میں خلاصہ طے طور پر یہ مسئلہ جان لیجئے کہ جو شخص مفلس ونادار ہو اس کے لئے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ وہ سلاطین کا مال قبول کرے کیونکہ اگر وہ مال سلطان کی ذاتی ملکیت میں سے ہے تو اس کو لے لینا بلاشبہ درست ہے اور اگر وہ مال فئی مال غنیمت خراج یا عشر میں سے ہے تو پھر مفلس اس کا حقدار ہی ہے اسی طرح ایسے مال میں جو فئی اور خراج عشر میں حاصل ہوا ہو اہل علم کا بھی حق ہے کہ اسے وہ مال لے لینا چاہئے چناچہ منقول ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا تھا کہ جو شخص برضا ورغبت اسلام میں داخل ہوا اور اس نے قرآن یاد کیا تو وہ بیت المال سے ہر سال دو سو درہم لینے کا حق دار ہے اگر وہ اپنے اس حق کو دنیا میں نہیں لے گا تو وہ یعنی اس کا اجر اسے عقبی میں مل جائے گا۔ لہذا ثابت ہوا کہ مفلس اور عالم دین کو بیت المال سے اپنا حق لے لینا چاہئے۔
Top