Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 5344
وعن أبي هريرة قال بينما كان النبي صلى الله عليه وسلم يحدث إذ جاء أعرابي فقال متى الساعة ؟ قال إذا ضيعت الأمانة فانتظر الساعة . قال كيف إضاعتها ؟ قال إذا وسد الأمر إلى غير أهله فانتظر الساعة . رواه البخاري .
قیامت کی ایک خاص علامت
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ( ایک دن) رسول کریم ﷺ صحابہ کرام سے سے (کسی سلسلہ میں) باتیں کر رہے تھے کہ اچانک ایک دیہاتی (مجلس نبوی میں) آیا اور کہنے لگا کہ قیامت کب آئے گی؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب امانت، تلف کی جانے لگے تو قیامت کا انتظار کرنے لگنا۔ دیہاتی نے پوچھا کہ امانت، کیونکر تلف کی جائے گی اور یہ نوبت کب آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ جب حکومت و سلطنت کا کام نااہل لوگوں کے سپرد ہوجائے تو ( سمجھنا کہ یہ امانت کا تلف ہوجانا ہے اور اس وقت) قیامت کا انتظار کرنا۔ (بخاری)
تشریح
امانت سے مراد شریعت کی طرف سے عائد کی جانے والی ذمہ داریاں اور دین کے احکام ہیں جیسا کہ قرآن کریم کے ارشاد انا عرضنا الامانۃ میں امانت کا یہی مفہوم ہے یا امانت سے لوگوں کے حقوق اور ان کی امانتیں مراد ہیں۔ حاصل یہ کہ حضور ﷺ نے اس دیہاتی کے پوچھنے پر یہ واضح فرمایا کہ قیامت کا متعین وقت عالم الغیوب کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا اور نہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو وہ ذریعہ بتایا ہے جس سے قیامت کا متعینہ وقت جانا جاسکے، ہاں اس نے ایسی علامتیں ضرور مقرر کی ہیں جو قیامت سے پہلے ظاہر ہوں گی اور جو اس امر کی نشانیاں ہوں گی کہ اب قیامت قریب ہے چناچہ ان علامتوں میں سے ایک علامت امانتوں کا ضائع کرنا ہے کہ لوگ امانتوں میں خیانت کرنے لگیں گے۔ نااہل سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے اندر حکومت وسیادت کی شرائط نہ رکھنے کی وجہ سے حکمراں بننے کا استحقاق نہ رکھتے ہوں گے، جیسے عورتیں، بچے جہلاء، فاسق وبد کار، بخیل اور نا مرد وغیرہ، اسی طرح جو شخص قریش النسل نہ ہو وہ بھی اس باب میں نااہل ہی کے زمرہ میں شمار ہوگا خواہ وہ سلاطین کی نسل سے کیوں نہ ہو لیکن اس شرط کا تعلق خاص طور پر خلافت سے ہے! حدیث کے اس جزء کا حاصل یہ ہے کہ اگر دین ودنیا کے امور کا نظم و انتظام ایسے شخص کے ہاتھوں میں آجائے جو اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو یقینا ان امور کا صحیح طور پر انجام پانا ناممکن نہیں ہوگا اور طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہوجائیں گی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگوں کے حقوق ضائع وپامال ہونے لگیں گے اور ہر شخص بےچین ومضطرب رہے گا۔ وسد بصیغہ مجہول اور سین کی تشدید کے ساتھ یا تشدید کے بغیر۔ اصل میں وسادۃ سے مشتق ہے، جس کے لغوی معنی تکیہ کے ہیں، چناچہ جس شخص کے سپرد کوئی کام کیا جاتا ہے تو گویا اس کام کے اعتبار سے اس شخص پر تکیہ کیا جاتا ہے۔
Top