Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 5534
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سيحان وجيحان والفرات والنيل كل من أنهار الجنة . رواه مسلم
معمولی جنتی کا مرتبہ
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سبحان، جیحان، فرات اور نیل، ان سب دریاوں کا تعلق جنت کی نہروں اور چشموں سے ہے۔ (مسلم )
تشریح
فرات اور نیل تو مشہور دریا ہیں ان کے تعین میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ دریائے فرات، عراق میں اور دریائے نیل مصر میں بہتا ہے۔ لیکن سبحان اور جیحان کے تعین میں اختلاف ہے ایک قول یہ ہے کہ سبحان شام کے دریا کا نام ہے اور جیحان بلخ کا دریا ہے اور بعض حضرات نے لکھا ہے کہ سیحان مدینہ کا دریا ہے، تاہم علماء نے یہ وضاحت کردی ہے کہ یہ جیحان وسیحان ان دریاؤں سے الگ ہیں جن کے نام جیحون اور سیحون ہیں اور جو ترک وبلخ ( وسط ایشیا) کے دریا ہیں۔ علامہ طیبی (رح) نے لکھا ہے کہ یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ جیحان شام کا دریا ہے، جیسا کہ جوہری کا قول ہے، نیز علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دریائے جیحون خراسان کے علاقہ میں بہتا ہے اور سیحون سندھ کا دریا ہے۔ بہرحال تحقیقی بات یہ ہے کہ جیحان اور سیحان شام کے دریا ہیں جو اس ملک کے قدیم شہر طرطوس اور مصیعہ کے قریب سے گزرتے ہیں اور بحر روم میں آکر گرتے ہیں۔ حدیث کی اس بات کہ ان چاروں دریاؤں کا تعلق جنت کی نہروں اور چشموں سے ہے، کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ زیادہ صحیح قول یہ بیان کیا گیا ہے کہ حدیث کے یہ الفاظ اپنے ظاہری معنی پر محمول ہیں یعنی حقیقت میں ان چاروں نہروں کا مادہ جنت میں ہے، چناچہ مسلم کی ایک روایت میں وضاحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ دریائے نیل وفرات جنت سے نکلے ہیں اور بخاری کی روایت یہ ہے کہ سدرۃ المنتہی کی جڑ سے نکلے ہیں اور معالم التنزیل میں یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان چاروں کا سر چشمہ پہاڑوں کو سونپ دیا ہے اور وہاں سے ان کو زمین پر جاری فرمایا ہے ایک قول یہ ہے کہ جنت کی ان چاروں نہروں کو جو وہاں کی تمام نہروں کا سرچشمہ اور اصل ہیں دنیا کے چاروں دریاؤں کے نام کے ساتھ مشہور ونامزد کیا گیا ہے جو اور دریاؤں کی بہ نسبت بہت زیادہ اہمیت، بہت زیادہ شہرت اور پانی کے مٹھاس و دیگر فوائد کے اعتبار سے بہت خصوصی درجہ رکھتے ہیں اور اس کا مقصد اس طرف اشارہ کرنا ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ فوائد و منافع حاصل ہیں وہ سب جنت کی نعمتوں اور وہاں کے فوائد و منافع کا نمونہ ہیں۔ ایک اور قول جس کو زیادہ واضح کہا جاسکتا ہے یہ ہے کہ ان سب دریاؤں کا تعلق جنت کی نہروں اور چشموں سے ہے سے مراد یہ ہے کہ ان دریاؤں کا پانی اور پانیوں کی بہ نسبت زیادہ لطیف و شیریں اور اور زیادہ ٹھنڈا و خوشگوار ہے، نیز ان دریاؤں کے پانی سے اتنے زیادہ فوائد اور اتنی زیادہ خصوصیات ہیں کہ جیسے یہ دریا جنت کی نہروں اور چشموں سے نکلے ہوں۔
Top