Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 5539
وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن في الجنة مائة درجة لو أن العالمين اجتمعوا في أحداهن لوسعتهم . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريبوعنه عن النبي صلى الله عليه و سلم في قوله تعالى ( وفرش مرفوعة ) قال : ارتفاعها لكما بين السماء والأرض مسيرة خمسمائة سنة . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
جنت کے فرش
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد وفرش موفوعۃ ( اور اونچے اونچے فرش اور بچھونے ہوں گے) کی تفسیر میں فرمایا کہ ان بچھونوں کی بلندی اتنی ہوگی جتنی کہ آسمان اور زمین کے درمیان مسافت ہے یعنی پانچ سو برس کا راستہ۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جنت کے درجوں میں جو فرش اور بچھونے ہوں گے وہ اتنے اونچے اونچے ہوں گے کہ بظاہر یہ نظر آئے گا کہ وہ آسمان جیسی بلندی تک چلے گئے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت میں جن اونچے اونچے فرش اور بچھونوں کا ذکر ہے وہ جنت کے ان درجات میں بچھے ہوں گے جو زمین سے آسمان تک کی مسافت کے بقدر بلند ہوں گے اور جن کی اس بلندی کے بارے میں یہ حدیث ہے کہ ان للجنۃ مائۃ درجۃ ما بین کل درجتین کما بین السماء والارض ( جنت میں سو درجے ہیں اور ان میں سے ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان۔ بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ فرش وموفوعۃ میں لفظ فرش سے مراد حوران جنت ہیں اور مرفوعۃ سے مراد ان حوران جنت کا حسن و جمال میں دنیا کی عورتوں سے فائق و برتر ہونا ہے، لیکن ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جنت میں مومن عورتیں حوروں سے بھی زیادہ حسین و جمیل ہوں گی اور ان کو حوروں پر فضیلت اس نماز روزہ کے سبب حاصل ہوگی جو وہ دنیا میں کرتی تھیں۔
Top