Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 5545
وعن أسماء بنت أبي بكر قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم وذكر له سدرة المنتهى قال : يسير الراكب في ظل الفنن منها مائة سنة أو يستظل بظلها مائة راكب - شك الراوي - فيها فراش الذهب كأن ثمرها القلال رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
سدرۃ المنتہی کا ذکر
اور حضرت اسماء بنت ابوبکر ؓ کہتی ہیں کہ اس وقت جب کہ رسول کریم ﷺ کے سامنے سدرۃ المنتہی کا ذکر کیا گیا، میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ( سدرۃ المنتہی ایسا درخت ہے کہ) کوئی ( تیز رفتار) سوار اس کی شاخوں کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے یا یہ فرمایا کہ اس کے سائے میں بیک وقت سو سوار دم لے سکیں، اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں ہیں گویا اس کے پھل مٹکوں کے برابر ہیں۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
سدرۃ المنتہی کے معنی ہیں بیری کا وہ درخت جس پر انتہاء ہے۔ اس درخت کو سدرۃ المنتہی اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ جنت کے اس انتہائی کنارے پر واقع ہے جس کے پرے کسی کو کچھ علم نہیں کیا ہے، اس کے آگے کسی فرشتے تک کو جانے کا حکم نہیں ہے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو آخری رسائی بھی یہیں تک ہے، اس کے آگے وہ بھی نہیں جاسکتے صرف آنحضرت ﷺ معراج کی رات میں اس درخت سے آگے گئے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق یہ درخت چھٹے آسمان پر ہے لیکن مشہور روایت یہ ہے کہ ساتویں آسمان پر۔ اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں ہیں۔ سے شاید یہ مراد ہے کہ اس درخت پر جو نوارنی فرشتے ہیں ان کے پر اس طرح چمکتے اور جھلملاتے ہیں جیسے اس کی شاخوں پر سونے کی چمکدار ٹڈیاں ادھر ادھر پھدک رہی ہوں یا یہ کہ اس درخت سے جو انوار اٹھتے ہیں اور شاخوں پر ایک خاص قسم کی روشنی پھوٹتی رہتی ہے اس کو سونے کی ٹڈیاں سے تعبیر فرمایا۔ واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں ہیں۔ دراصل اس آیت کریمہ (اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى) 53۔ النجم 16) ( جب اس سدرۃ المنتہی کو ڈھانپ رکھا جو کچھ کہ ڈھانپتا ہے) کی تفسیر ہے، چناچہ بیضاوی نے اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ فرشتوں کی ایک بہت بڑی جماعت جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہے اس درخت کو ڈھانپے رہتی ہے۔
Top