مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 1110
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم جَآءَ بِلَالٌ ےُّؤْذِنُہُ بِالصَّلٰوۃِ فَقَالَ مُرُوْا اَبَا بَکْرٍ اَنْ ےُّصَلِّیَ بِالنَّاسِ فَصَلّٰی اَبُوْ بَکْرٍ تِلْکَ الْاَےَّامَ ثُمَّ اِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم وَجَدَ فِیْ نَفْسِہٖ خِفَّۃً فَقَامَ ےُھَادٰی بَےْنَ رَجُلَےْنِ وَرِجْلَاہُ تَخُطَّانِ فِی الْاَرْضِ حَتّٰی دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا سَمِعَ اَبُوْ بَکْرٍ حِسَّہُ ذَھَبَ ےَتَاَخَّرُ فَاَوْمٰی اِلَےْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ لَّا ےَتَاَخَّرَ فَجَآءَ حَتّٰی جَلَسَ عَنْ ےَّسَارِ اَبِیْ بَکْرٍ فَکَانَ اَبُوْ بَکْرٍ ےُّصَلِّیْ قَآئِمًا وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّیْ قَاعِدًا ےَّقْتَدِیْ اَبُوْ بَکْرٍ بِصَلٰوۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَالنَّاسُ ےَقْتَدُوْنَ بِصَلٰوۃِ اَبِیْ بَکْرٍ مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ لَّھُمَا ےَسْمَعُ اَبُوْ بَکْرِ النَّاسَ التَّکْبِےْرَ۔
رسول اللہ کی علالت اور حضرت ابوبکر صدیق کی امامت کا واقعہ
اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ بہت زیادہ بیمار تھے تو (ایک دن) حضرت بلال ؓ آپ ﷺ کو نماز کے لئے بلانے آئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر ؓ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں چناچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے لوگوں کو ان دنوں میں سترہ نمازیں پڑھائیں پھر جب (ایک دن) رسول اللہ ﷺ نے اپنی طبیعت کچھ ہلکی محسوس فرمائی تو آپ ﷺ (نماز کے لئے مسجد میں) دو آدمیوں کا سہارا لے کر (اس طرح) آئے کہ آپ ﷺ اپنے ہاتھ سے صحابہ کے کندھوں پر ٹیک رکھے ہوئے تھے اور (ضعف و کمزوری کے سبب) آپ ﷺ کے پاؤں مبارک زمین پر گھسٹتے جاتے تھے جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکر ؓ نے آپ ﷺ کی آمد کی آہٹ محسوس کی اور پیچھے ہٹنا شروع کیا (تاکہ رسول اللہ ﷺ ان کی جگہ کھڑے ہوجائیں اور امامت کریں) رسول اللہ ﷺ نے (یہ دیکھ کر) حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی طرف اشارہ کیا کہ پیچھے نہ ہٹو پھر آپ ﷺ (آگے) بڑھے اور حضرت ابوبکر ؓ کے بائیں طرف بیٹھ گئے چناچہ حضرت ابوبکر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے اور رسول اللہ ﷺ ضعف و کمزوری کی بناء پر) بیٹھ کر نماز پڑھتے رہے حضرت ابوبکر رسول اللہ ﷺ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر ؓ کی نماز کی اقتداء کرتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

تشریح
شرح السنہ میں لکھا ہے کہ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رسول اللہ ﷺ کے بعد تمام لوگوں میں سے افضل ہیں نیز یہ کہ تمام لوگوں میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہی رسول اللہ ﷺ کی خلافت کے سب سے زیادہ مستحق اور سب سے اولیٰ ہیں چناچہ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے حضرت ابوبکر ؓ کو امامت کے اس عظیم اور سب سے اہم منصب کا اہل و اولی قرار دئیے جانے کی پیش نظر ہی بعض جلیل القدر صحابہ کا یہ ارشاد بالکل حقیقت پسندانہ اور منشاء رسالت کے عین مطابق تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر کو اپنی زندگی میں دین کا سب سے بڑا اور اہم منصب امامت عنایت فرما کر اس بات کی طرف اشارہ فرما دیا تھا کہ میرے بعد حضرت ابوبکر کو ہمارے دین (کی پیشوائی) کے لئے پسند فرمایا تو کیا ہم انہیں اپنی دنیا کی رہبری کے لئے پسند نہ کریں؟ یعنی جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر ہی کی وہ آدمییت ہوسکتی ہے جو مسلمانوں کی دینی پیشوائی اور رہبری کو انجام دے سکے تو حضرت ابوبکر مسلمانوں کی دینوی رہبری اور پیشوائی کے بدرجہ اولی مستحق ہوئے لہٰذا خلافت جیسے عظیم الشان منصب کے سب سے زیادہ اہل وہی ہیں۔ رَجُلَیْنِ (دو صحابہ) سے مراد حضرت علی المرتضیٰ اور حضرت عباس ؓ کی ذات گرامی ہے یعنی آپ ﷺ اپنی کمزوری و نا تو انی کے سبب حجرہ مبارک سے مسجد نبوی تک ان دونوں جلیل القدر صحابہ کے کندھوں پر سہارا دیکر تشریف لائے۔ حدیث کے الفاظ والناس یقتدون بصلوۃ ابی بکر ( اور لوگ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے) کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ چونکہ بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے اور حضرت ابوبکر آپ ﷺ کے پہلوئے مبارک میں کھڑے تھے اس لئے رسول اللہ ﷺ جو فعل کرتے حضرت ابوبکر ؓ بھی اس طرح کرتے تھے اور جو فعل حضرت ابوبکر کرتے تھے دوسرے مقتدی بھی اسی طرح کرتے جاتے تھے۔ لہٰذا یہاں اقتداء کے یہی معنی ہیں یہ معنی مراد نہیں ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تو حضرت ابوبکر کے امام تھے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ دوسرے مقتدیوں کے امام تھے کیونکہ مقتدی کی اقتداء کرنا جائز نہیں۔ بہر حال حاصل یہ ہے امام رسول اللہ ﷺ ہی تھے حضرت ابوبکر بھی آپ ﷺ کی اقتداء کر رہے تھے اور دوسرے لوگ بھی آپ ﷺ ہی کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے۔ کیا نماز کے دوران امامت میں تغیر جائز ہے۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نماز کے دوران امامت میں تغیر جائز ہے؟ یعنی نماز شروع چکی ہے ایک امام لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہے اور ایک دوسرا آدمی آتا ہے اور شروع سے نماز پڑھانے والے امام کی جگہ کھڑا ہوجاتا ہے اور امامت شروع کردیتا ہے تو کیا یہ جائز ہے؟ جیسا کہ واقعہ مذکورہ میں صورت پیش آئی کہ حضرت ابوبکر ؓ نے لوگوں کو نماز پڑھانی شروع کردی تھی کہ رسول اللہ ﷺ بعد میں تشریف لائے اور حضرت ابوبکر ؓ کی جگہ لوگوں کی امامت شروع فرمادی! تو اس سلسلے میں علامہ ابن عبدالبر (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کا اس بارے میں اجماع ہے کہ صورت مذکور میں رسول اللہ ﷺ کا یہ فعل آپ ﷺ کے خصائص میں تھا، یعنی دوسروں کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ اس طرح امامت میں تغیر کیا جائے۔ لیکن حضرت امام شافعی نے اس میں اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ مذکورہ بالا صورت کی طرح امامت اور اقتداء جائز ہے (ملا حظہ فرمایئے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ) اس سلسلے میں بعض علماء حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ اس حدیث سے یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نماز شروع کرچکے تھے یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اس وقت نماز شروع نہیں کی تھی چناچہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور امامت شروع فرما دی۔ وا اللہ اعلم اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی صاف ہوگیا کہ اگر امام کسی عذر کی بناء پر بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کھڑے ہو کر ہی نماز پڑھیں چناچہ ہدایہ میں لکھا ہوا ہے کہ بیٹھ کر نماز پڑھانے والے امام کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی جائے۔ نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جمعہ، عیدین نیز زیادہ نمازی ہونے کی صورت میں عام نمازوں میں بھی موذنوں کے لئے جائز ہے کہ وہ امام کے ساتھ تکبیرات بآواز بلند کہتے جائیں تاکہ جو مقتدی امام سے فاصلے پر ہوں وہ بھی تکبیرات سن لیں۔
Top