مشکوٰۃ المصابیح - وتر کا بیان - 1230
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلٰوۃُ اللَّےْلِ مَثْنٰی مَثْنٰی فَاِذَا خَشِیَ اَحَدُکُمُ الصُّبْحَ صَلّٰی رَکْعَۃً وَّاحِدَۃً تُوْتِرُلَہ، مَا قَدْ صَلّٰی۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت عبداللہ ابن عمر (رض) راوی ہیں کہ سرور کونین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور جب کسی کو صبح ہونے کا اندیشہ ہونے لگے تو ایک رکعت پڑھ لے، یہ (ایک رکعت) پہلی پڑھی ہوئی نماز کو طاق کر دے گی۔ " (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

تشریح
حدیث کے پہلے جزو کا مطلب یہ ہے کہ رات کو پڑھی جانے والی نفل نمازیں دو دو رکعت کر کے پڑھی جائیں چناچہ حضرت امام شافعی، حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد نے اس حدیث کے پیش نظر کہا ہے کہ افضل یہی ہے کہ رات میں نفل نمازیں اس طرح پڑھی جائیں کہ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا جائے یعنی دو دو رکعت کر کے پڑھی جائیں۔ حدیث کے دوسرے جزء کا مطلب یہ ہے کہ رات کو نماز میں مشغول رہنے والا آدمی جب یہ دیکھے کہ رات ختم ہو رہی ہے اور صبح نمودار ہونے والی ہے تو وہ ان نمازوں کے بعد ایک رکعت پڑھ لے تاکہ یہ ایک رکعت پہلی پڑھی ہوئی نمازوں کو طاق کر دے، اس طرح یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے کیونکہ ان کے نزدیک وتر کی ایک ہی رکعت ہے۔ امام طحاوی حنفی نے صلی رکعۃ واحدۃ الخ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ " ایک رکعت اس طرح پڑھے کہ اس سے پہلے دور رکعتیں پڑھ لے تاکہ یہ رکعت شفع یعنی اس ایک رکعت سے پہلے پڑھی گئی دونوں رکعتوں کو طاق کر دے۔ گویا ایک رکعت علیحدہ نہ پڑھی جائے بلکہ دو رکعتوں کے ساتھ ملا کر پڑھی جائے۔ علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے تو یہ کہیں ثابت ہی نہیں ہوتا کہ وتر کی ایک رکعت علیحدہ تکبیر تحریمہ کے ساتھ پڑھی جائے " لہٰذا اس کے ذریعے وتر کی ایک رکعت ہونے پر استدلال کرنا درست نہیں ہے۔ پھر وتر کی تین ہی رکعتیں ہونے کے سلسلہ میں حنفیہ کی ایک بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلوۃ بتیرا یعنی تنہا ایک رکعت نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ جہاں تک صحابہ اور سلف کے عمل کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اکثر فقہا صحابہ اور سلف کا معمول وتر کی تین رکعتیں ہی پڑھنا تھا۔ چناچہ حضرت عمر فاروق کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے ان کو تو اس سلسلے میں بہت زیادہ اہتمام تھا۔ انہوں نے ایک مرتبہ حضرت سعید بن مسیب کو وتر ایک رکعت پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ " کیسی ناقص نماز پڑھتے ہو ؟ دو رکعت اور پڑھو ورنہ تمہیں سزادوں گا۔ " (نہایہ) جامع ترمذی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے وتر کی تین رکعتیں نقل کی ہیں اور اسی کو عمران بن حصین، حضرت عائشہ، عبداللہ ابن عباس اور ابوایوب کی طرف منسوب کیا ہے اور آخر میں انہوں نے صراحت کردی ہے کہ صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت اسی طرف ہے۔ حضرت عمر فاروق اور حضرت عبداللہ ابن مسعود کے بارے میں موطا امام محمد میں مذکور ہے کہ ان کے نزدیک بھی وتر کی تین ہی رکعتیں ہیں۔ حضرت امام حسن بصری فرماتے ہیں کہ سلف کا اسی پر معمول تھا۔ (ہدایہ) تین رکعت کی وتر صحابہ میں مشہور تھی، ایک رکعت کی وتر تو عام طور پر لوگ جانتے بھی نہ تھے چناچہ حضرت معاویہ کو عبداللہ ابن عباس کے مولیٰ نے ایک رکعت وتر پڑھتے ہوئے دیکھا تو ان کو بہت تعجب ہوا انہوں نے حضرت عباس کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کو بڑے اہتمام کے ساتھ بیان کیا۔ حضرت عبداللہ ابن عباس نے ان کی وحشت و حیرت یہ کہہ کر ختم کردی کہ معاویہ فقیہ ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت سے مشرف ہوچکے ہیں ان پر اعتراض نہ کرو " (صحیح البخاری ) بہر حال ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وتر کی تین ہی رکعتیں ہیں جن احادیث سے وتر کی ایک رکعت ثابت ہوتی ہے وہ سب قابل تاویل ہیں جو انشاء اللہ حسب موقع بیان کی جائیں گی۔ یا یہ کہ ان میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پہلی حالتوں کا ذکر ہے آخر فعل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھی تین ہی رکعت پر تھا جو صحابہ میں مشہور ہوا اور ظاہر ہے کہ امت کے لئے آپ کا وہی فعل حجت اور دلیل بن سکتا ہے جس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آخر میں عمل اختیار فرمایا ہو۔
Top