Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5792 - 5871)
Select Hadith
5792
5793
5794
5795
5796
5797
5798
5799
5800
5801
5802
5803
5804
5805
5806
5807
5808
5809
5810
5811
5812
5813
5814
5815
5816
5817
5818
5819
5820
5821
5822
5823
5824
5825
5826
5827
5828
5829
5830
5831
5832
5833
5834
5835
5836
5837
5838
5839
5840
5841
5842
5843
5844
5845
5846
5847
5848
5849
5850
5851
5852
5853
5854
5855
5856
5857
5858
5859
5860
5861
5862
5863
5864
5865
5866
5867
5868
5869
5870
5871
مشکوٰۃ المصابیح - معجزوں کا بیان - حدیث نمبر 2884
وعن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أرخص في بيع العرايا بخرصها من التمر فيما دون خمسة أوسق أو خمسة أوسق شك داود ابن الحصين
بیع عرایا کا مسئلہ
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے عاریتًا (محتاجوں کو عاریتا دئیے گئے درختوں کے پھلوں) کو خشک کھجوروں کے ساتھ اندازہ کر کے بیچنے کی اجازت دیدی ہے یعنی اگر عرایا پر لگی ہوئی کھجوروں کو خشک کھجوروں سے بدلنا ہو تو پہلے یہ اندازہ کرلیا جائے کہ یہ تازہ کھجوریں خشک ہونے کے بعد کتنی رہیں گی پھر اتنی ہی مقدار میں خشک کھجوریں لے کر وہ تازہ کھجوریں دیدی جائیں مگر اس اجازت کا تعلق اس صورت سے ہے جبکہ وہ پانچ وسق سے کم ہوں یہ حدیث کے ایک راوی داؤد ابن حصین کا شک ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد میں پانچ وسق سے کم کا تذکرہ تھا یا پانچ وسق کا تذکرہ تھا (بخاری ومسلم)
تشریح
پانچ وسق سے کم کی قید اس لئے ہے کہ اس اجازت کا تعلق احتیاج اور ضرورت سے ہے اور احتیاج و ضرورت پانچ وسق سے کم ہی ہوتی ہے چناچہ عرایا کے پھلوں کی مذکورہ بالا بیع و تبادلہ پانچ وسق سے کم میں سب ہی علماء کے نزدیک جائز ہے پانچ وسق سے زیادہ میں جائز نہیں ہے البتہ پورے پانچ وسق کے بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں زیادہ صحیح قول عدم جواز ہی کا ہے کیونکہ بیان مقدار میں راوی نے شک کا اظہار کیا ہے لہذا ایسی صورت میں احتیاط کا تقاضہ یہی ہونا چاہئے کہ پانچ وسق سے کم مقدار پر عمل کیا جائے جو بہرحال متعین ہے اس بات میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ اس اجازت کا تعلق صرف محتاجوں ہی سے ہے یا اغنیاء سے بھی اس اجازت کے دائرہ میں آتے ہیں چناچہ زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ یہ اجازت دونوں کے لئے ہے۔ وسق ایک پیمانہ کا نام ہے ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور ایک صاع کے پیمانہ میں تقریبا سڑھے تین سیر غلہ آتا ہے انگریزی سیر کے اعتبار سے پانچ وسق تقریبا چھبیس من کا ہوتا ہے)
Top