مشکوٰۃ المصابیح - معجزوں کا بیان - حدیث نمبر 5809
وعن عائشة قالت : لما رجع رسول الله صلى الله عليه و سلم من الخندق وضع السلاح واغتسل أتاه جبريل وهو ينفض رأسه من الغبار فقال قد وضعت السلاح والله ما وضعته أخرج إليهم قال النبي صلى الله عليه و سلم فأين فأشار إلى بني قريظة فخرج النبي صلى الله عليه و سلم . متفق عليه وفي رواية للبخاري قال أنس : كأني أنظر إلى الغبار ساطعا في زقاق بني غنم موكب جبريل عليه السلام حين سار رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى بني قريظة
حضرت جبرئیل (علیہ السلام) اور فرشتوں کی مدد کا معجزہ
اور حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے غزوہ خندق سے واپس آکر ( اپنے جسم سے) ہتھیار اتا رے اور غسل ( کا ارادہ) کیا تھا کہ آپ ﷺ کی خدمت میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے، درآنحالیکہ وہ اپنے سر سے ( غزوہ خندق میں پڑی ہوئی) گرد و غبار جھاڑ رہے تھے۔ اور کہنے لگے کہ آپ ﷺ نے تو ہتھیار اتار کر رکھ دئیے ہیں اور قسم اللہ کی میں نے ابھی ہتھیار نہیں اتارے ہیں ( جیسا کہ آپ ﷺ مجھے دیکھ ہی رہے ہیں ( چلئے ابھی تو ان کافروں پر لشکر کشی کرنی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے پوچھا کہاں چلنا ہے، کس پر لشکر کشی کرنی ہے؟ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے بنی قریظہ کی طرف اشارہ کیا اور آنحضرت ﷺ ( فورا مسلح ہو کر اپنے صحابہ کے ساتھ قریظہ کی طرف روانہ ہوگئے ( جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو فتح عطا فرمائی) اور بخاری کی ایک روایت میں حضرت انس ؓ سے یہ الفاظ بھی منقول ہیں کہ۔ گویا میں اس غبار کو اب بھی دیکھ رہا ہوں جو بنو غنم کے کوچہ میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ہمراہ چلنے والی ( سوار فرشتوں کی) جماعت کے سبب اس وقت اٹھ رہا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ بنو قریظہ کی طرف جار ہے تھے۔

تشریح
غسل کیا تھا سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ نے غسل کا ارادہ کیا تھا اور نہانے جا ہی رہے تھے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آگئے اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جس وقت حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے تو آپ ﷺ غسل کر رہے تھے، سر کا ایک حصہ دھونا باقی تھا، گویا اس وقت تک آپ ﷺ کا غسل پورا نہیں ہوا تھا۔ درآنحالیکہ وہ اپنے سر سے ( غزوہ خندق میں پڑی ہوئی) گردوغبار جھاڑ رہے تھے۔ اس میں ہو کی ضمیر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف راجع ہوسکتی ہے اور آنحضرت ﷺ کی طرف بھی، حاصل یہ کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا آنا اور آنحضرت ﷺ کا بنی قریظہ سے جنگ کے لئے روانہ ہونا غزوہ خندق سے واپسی کے فورا بعد کا واقعہ ہے۔ بنو قریظہ سے مراد یہودیوں کی وہ قوم ہے جو مدینہ شہر سے باہر تین چار میل کے فاصلہ پر آباد تھی، وہاں ان کی حویلیاں تھیں اور ایک بہت مضبوط قلعہ بھی تھا، انہوں نے عہد شکنی کا ارتکاب کیا تھا اور آنحضرت ﷺ سے مصالحانہ معاہدہ کے باوجود غزوہ خندق میں دشمنوں کا ساتھ دیا اور مسلمانوں کی تباہی کا پورا منصوبہ بنایا تھا۔ بہر حال آنحضرت ﷺ نے ان سے جنگ کی اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو فتح عطا فرمائی اس کی تفصیل تاریخ وسیر کی کتابوں میں مذکور ہے۔ غنم انصار کے ایک قبیلہ کا نا ہے، آنحضرت ﷺ بنو قریظہ کی طرف جاتے ہوئے اس قبیلہ کے محلہ سے گزرے تھے اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اس محلہ کے گلی کوچہ میں لوگوں کی آمد ورفت نہیں تھی، اسی وجہ سے اس کو چہ میں اٹھتا ہوا گردوغبار دیکھ کر حضرت انس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ فرشتوں کا لشکر ساتھ چل رہا ہے اور اس کے قدموں سے یہ گردوغبار اٹھ رہا ہے، نیز غالب گمان یہ ہے کہ فرشتوں کے اس لشکر کے کمانڈر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تھے جو یا تو لشکر کے ساتھ ہی تھے یا آنحضرت ﷺ کے ہمراہ چل رہے تھے۔ اس حدیث میں جو چیز آنحضرت ﷺ کا معجزہ کو ظاہر کرتی ہے وہ ایک تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا مسلح ہو کر اپنے لشکر سمیت آنحضرت ﷺ کے دشمنوں سے جنگ کے لئے آنا ہے اور دوسری چیز فرشتوں کے قدموں سے اٹھتے ہوئے گردوغبار کا نظر ہے جب کہ خود وہ فرشتے کسی کو نظر نہیں آرہے تھے۔
Top