Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 3069
ورثاء کی ترتیب
علماء لکھتے ہیں کہ میت کے ترکہ (یعنی اس کے چھوڑے ہوئے مال و اسباب) کے ساتھ چار حق متعلق ہوتے ہیں جس کی ترتیب یہ ہے کہ (١) پہلے تو میت کی تجہیز و تکفین کی جائے یعنی اسے غسل دیا جائے پھر کفن دیا جائے اس کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھوا کر قبرستان لے جایا جائے اور پھر قبر میں دفن کیا جائے ان چیزوں میں جو کچھ خرچ کرنے کی ضرورت ہو وہ اس کے ترکہ میں سے اس طرح خرچ کیا جائے کہ نہ تو تنگی کی جائے اور نہ اسراف کیا جائے۔ (٢) اس کے بعد اگر میت کے ذمہ کوئی قرض و مطالبہ ہو تو اس کی ادائیگی کی جائے۔ پھر قرض و مطالبہ کی ادائیگی کے بعد (٣) جو مال و اسباب بچے اس میں سے تہائی حصہ میں وصیت جاری کی جائے بشرطیکہ اس نے وصیت کی ہو ان تین مرحلوں کے بعد (٤) اس کا بقیہ تمام مال و اسباب اس کے وارثوں کے درمیان تقسیم کیا جائے جس کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے ذوی الفروض کو ان کے مقررہ حصے دئیے جائیں اور ان کو دینے کے بعد جو کچھ بچے وہ میت کے عصبات نسبی کو دیدیا جائے کیونکہ ذو الفروض کو دینے کے بعد جو کچھ بچتا ہے وہ عصبات نسبی کا حق ہوتا ہے اور اگر میت کے وارثوں میں ذوی الفروض موجود نہیں ہوتے تو پھر اس کا تمام ترکہ عصبات نسبی کو ملتا ہے اور اگر اس کے وارثوں میں عصبات نسبی نہیں ہوتے تو ذوی الفروض کو دینے کے بعد جو کچھ بچتا ہے وہ آزاد کرنیوالے کو ملتا ہے بشرطیکہ میت غلام رہا ہو اور اس کو آزاد کیا گیا ہو اور اگر آزاد کرنیوالا موجود نہ ہو تو پھر اس آزاد کرنیوالے کے مرد عصبات کو دیا جاتا ہے اور اگر یہ بھی نہ ہوں تو بھی وہ بچا ہوا ترکہ ذوی الفروض کی طرف لوٹ جائے گا علاوہ زوجین کے کیونکہ اس دوبارہ تقسیم میں ذوی الفروض میں سے زوجین کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اور اگر میت کے ورثاء میں نہ تو ذوی الفروض میں سے کوئی ہو اور نہ عصبات نسبی و سببی ہوں تو اس کا ترکہ ذوی الارحام کو دیا جائے اور اگر ذوی الارحام بھی نہ ہوں تو مولا موالات کو دیا جائے اور اگر کوئی مولا موالات بھی نہ ہو تو پھر وہ تمام ترکہ اس غیر شخص کو ملے گا جس کے نسب کا میت نے اقرار کیا ہو مثلا اس نے زید کے بارے میں کہا ہو کہ یہ میرے باپ کا بیٹا ہے حالانکہ زید کا یہ نسب یعنی اس میت کے باپ کا بیٹا ہونا اس اقرار کے علاوہ اور کسی صورت میں ثابت نہ ہو لیکن پھر بھی وہ میت کے ترکہ کا حقدار قرار پائیگا۔ اور اگر ایسا بھی کوئی شخص نہ ہو تو پھر وہ ترکہ اس شخص کو دیا جائے گا جس کے لئے میت نے اپنے تمام مال کی وصیت کی ہو اور اگر ایسا بھی کوئی شخص نہ ہو جس کے لئے میت نے اپنے تمام مال و اسباب کی وصیت کی ہو تو پھر اس کا سارا مال و اسباب بیت المال میں رکھا جائے گا۔ اور اگر بیت المال بھی نہ ہو تو پھر آخر میں بیت المال کے مصرف میں صرف کیا جائے یعنی مدارس ومساجد یا فقراء اور مساکین وغیرہ کو دیا جائے گا۔
Top