Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 3084
وعن كثير بن عبد الله عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مولى القوم منهم وحليف القوم منهم وابن أخت القوم منهم . رواه الدارمي
ابتداء اسلام کا ایک حکم
اور حضرت کثیر بن عبداللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ تابعی) اور وہ کثیر کے دادا (یعنی اپنے والد حضرت عمرو بن عوف مزنی صحابی) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کسی قوم کا مولیٰ اسی قوم میں سے ہے کسی قوم کا حلیف اسی قوم میں سے ہے اور کسی قوم کا بھانجا اسی قوم میں سے ہے (دارمی)
تشریح
پہلی فصل میں حضرت انس کی جو روایت نمبر (٤) گرزی ہے اس کی تشریح میں مولیٰ کی وضاحت کی جا چکی ہے کسی قوم کا حلیف اسی قوم میں سے ہے کی وضاحت یہ ہے کہ پہلے اہل عرب میں یہ دستور تھا کہ دو شخص آپس میں قسم وحلف کے ذریعے یہ باہمی عہد و اقرار کرلیتے تھے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے رنج و راحت اور موت وحیات میں شریک رہیں گے ایک کا خون دوسرے کا خون ہوگا ایک کی صلح دوسرے کی صلح ہوگی اور ایک کی جنگ دوسرے کی جنگ ہوگی ہم میں سے کسی پر کوئی تاوان لازم ہوگا تو دوسرا ادا کرے گا اسی طرح ایک دوسرے کی میراث کے بارے میں بھی ایک دوسرا یہ اقرار کرتا تھا کہ میں تمہارا وارث ہوں گا اور تم میرے وارث ہو گے چناچہ میراث کے سلسلہ میں اسلام کے ابتدائی زمانہ میں بھی اس پر عمل ہوتا رہا مگر جب قرآن کریم میں وراثت کا ایک واضح ضابطہ نازل کیا گیا اور ورثاء اور ان کے حصے میں متعین و مقرر کر دئیے گئے تو یہ پرانا دستور بھی ختم ہوگیا اور آپ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی بھی منسوخ ہوگیا اور کسی قوم کا بھانجا اسی قوم میں سے اس کی وضاحت بھی حضرت انس ہی کی روایت نمبر (٥) کی تشریح کے تحت کی جا چکی ہے۔
Top