Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 3092
وعن هزيل بن شرحبيل قال : سئل أبو موسى عن ابنة وبنت ابن وأخت فقال : للبنت النصف وللأخت النصف وائت ابن مسعود فسيتابعني فسئل ابن مسعود وأخبر بقول أبي موسى فقال : لقد ضللت إذن وما أنا من المهتدين أقضي فيها بما قضى النبي صلى الله عليه و سلم : للبنت النصف ولابنة الابن السدس تكملة الثلثين وما بقي فللأخت فأتينا أبا موسى فأخبرناه بقول ابن مسعود فقال : لا تسألوني ما دام هذا الحبر فيكم . رواه البخاري
بیٹی پوتی اور بہن کے حصے
اور حضرت ہزیل بن شرحبیل تابعی کہتے ہیں کہ حضرت ابوموسی صحابی سے یہ سوال کیا گیا کہ مثلا زید مرگیا اور اس کے وارثوں میں ایک بیٹی ایک پوتی اور ایک بہن ہے تو زید کی میراث کو کس طرح تقسیم کیا جائے گا حضرت ابوموسی نے جواب دیا کہ زید کا ترکہ آدھا بیٹی کو اور آدھا بہن کو ملے گا پوتی محروم رہے گی پھر حضرت ابوموسی نے سوال کرنیوالے سے کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس جاؤ اور ان سے بھی یہی مسئلہ پوچھو وہ بھی میرے اس جواب سے اتفاق کریں گے ( یعنی اس مسئلہ کا جو جواب میں نے دیا ہے یہی جواب وہ بھی دیں گے) چناچہ حضرت عبداللہ بن مسعود سے بھی یہ مسئلہ پوچھا گیا اور اس کا جو جواب حضرت ابوموسی نے دیا تھا وہ بھی انہیں بتایا گیا حضرت عبداللہ بن مسعود نے (مسئلہ اور حضرت ابوموسی کا جواب سن کر) کہا کہ ایسی صورت میں (یعنی ابوموسی نے جو فتوی دیا ہے وہی فتوی اگر میں بھی دوں تو) میں گمراہ سمجھا جاؤں گا اور اپنے کو راہ ہدایت پر نہ پاؤں گا لہذا اس مسئلہ میں، میں وہی فیصلہ دوں گا جو رسول کریم ﷺ کے حکم کے مطابق ہے اور وہ یہ ہے کہ بیٹی کو آدھا ملے گا اور دو تہائی پورا کرنے کے لئے پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا ( یعنی میت کے ترکہ میں سے دو یا دو سے زائد بیٹیوں کو تہائی ملتا ہے اب چونکہ بیٹی ایک ہے اور اس کو آدھا حصہ ملا ہے تو پوتی کو چھٹا حصہ دے کردو تہائی پورا کردیا جائے گا اور جو کچھ باقی بچے (یعنی ایک تہائی) وہ بہن کا ہے یعنی اس حدیث بیٹوں کی موجودگی میں بہن کو عصبہ قرار دو کے مطابق بہن عصبہ ہو کر باقی ماندہ ترکہ لے لے گی چناچہ اکثر علماء کا یہی مسلک ہے) راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کا یہ جواب سن کر ہم حضرت ابوموسی کے پاس آئے اور انہیں حضرت ابن مسعود کے جواب سے آگاہ کیا حضرت ابوموسی نے فرمایا کہ مجھے اپنی غلطی کا اعتراف ہے کیونکہ ابن مسعود نے جو فتوی دیا ہے وہی صحیح اور حق ہے لہذا جب تک تمہارے درمیان یہ عالم (ابن مسعود) موجود ہیں مجھ سے کوئی مسئلہ نہ پوچھا کرو (بخاری)
تشریح
حضرت عبداللہ بن مسعود کے جواب کا حاصل یہ تھا کہ میت کے کل ترکہ کے چھ حصے کر کے اس طرح تقسیم کرو کہ یعنی لڑکی کو تین حصے پوتی کو ایک حصہ اور بہن کو دو حصے دو۔
Top