Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 5411
وعن أبي بكرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يمكث أبو الدجال ثلاثين عاما لا يولد لهما ولد ثم يولد لهما غلام أعور أضرس وأقله منفعة تنام عيناه ولا ينام قلبه . ثم نعت لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أبويه فقال أبوه طوال ضرب اللحم كأن أنفه منقار وأمه امرأة فرضاخية طويلة اليدين . فقال أبو بكرة فسمعنا بمولود في اليهود . فذهبت أنا والزبير بن العوام حتى دخلنا على أبويه فإذا نعت رسول الله صلى الله عليه وسلم فيهما فقلنا هل لكما ولد ؟ فقالا مكثنا ثلاثين عاما لا يولد لنا ولد ثم ولد لنا غلام أعور أضرس وأقله منفعة تنام عيناه ولا ينام قلبه قال فخرجنا من عندهما فإذا هو مجندل في الشمس في قطيفة وله همهمة فكشف عن رأسه فقال ما قلتما وهل سمعت ما قلنا ؟ قال نعم تنام عيناي ولا ينام قلبي . رواه الترمذي .
ابن صیاد اور دجال
اور حضرت ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ ( ایک دن) رسول کریم ﷺ نے فرمایا دجال کے والدین تیس سال اس حالت میں گزاریں گے کہ ان کے کوئی لڑکا نہیں ہوگا پھر ان کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو بڑے دانتوں والا یعنی کیچلیوں والا ہوگا۔ ( بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ دانتوں سمیت پیدا ہوگا۔ وہ بہت کم فائدہ پہنچانے والا ہوگا ( یعنی جس طرح اور لڑکے گھر کے کام کاج میں فائدہ پہنچاتے ہیں وہ کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا) اس کی دونوں آنکھیں سوئیں گی لیکن اس کا دل نہیں سوئے گا۔ اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے ہمارے سامنے اس کے ماں باپ کا حال بیان کیا اور فرمایا۔ اس کا باپ غیر معمولی لمبا اور کم گوشت والا یعنی دبلا ہوگا اس کی ناک مرغ جیسے جانور کی) چونچ کی طرح ( لمبی اور پتلی) ہوگی اور اس کی ماں موٹی چوڑی اور لمبے ہاتھ والی ایک عورت ہوگی۔ ابوبکرہ کہتے ہیں کہ ہم نے مدینہ کے یہودیوں میں ایک ( عجیب و غریب) لڑکے کی موجودگی کے بارے میں سنا تو میں اور زبیر بن العوام ( اس کو دیکھنے چلے گئے) جب ہم اس لڑکے کے والدین کے پاس پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ بالکل اسی طرح کے ہیں جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے ہم سے ان ( والدین) کے بارے میں بیان کیا تھا، ہم نے ان دونوں سے پوچھا کہ کیا تمہارے کوئی لڑکا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہم نے تیس سال اس حالت میں گزارے کہ ہمارے کوئی لڑکا نہیں تھا، پھر ہمارے ہاں ایک کانا لڑکا پیدا ہوا جو بڑے دانتوں والا اور بہت کم فائدہ پہنچانے والا ہے۔ اس کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن اس کا دل نہیں سوتا۔ ابوبکرہ کہتے ہیں کہ ہم دونوں ( ان کی یہ بات سن کر) وہاں سے چل دئیے اور پھر اچانک ہماری نظر اس لڑکے (یعنی ابن صیاد) پر پڑی جو دھوپ میں چادر اوڑھے پڑا تھا اور اس ( کی چادر) میں سے گنگناہٹ کی سی ایک ایسی آواز آرہی تھی جو سمجھ میں نہیں آتی تھے ( ہم نے وہاں کھڑے ہو کر آپس میں اس کے متعلق کوئی بات کہی ہوگی یا کچھ اور کہا ہوگا) اس نے سر سے چادر ہٹا کر ہم سے پوچھا کہ تم نے کیا کہا ہے؟ ہم نے ( حیرت سے کہا) کہ ( ہم تو سمجھے کہ تو سور ہا ہے) کیا تو نے ہماری بات سن لی ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔ ( ترمذی)
تشریح
لیکن اس کا دل نہیں سوئے گا۔ کا مطلب یہ ہے کہ وساوس واوہام کی کثرت اور افکار فاسدہ کے مسلسل آتے رہنے کی وجہ سے سوتے وقت بہی وہ افکار فاسدہ اس سے منقطع نہیں ہوں گے بایں طور کہ شیطان اس کو القا کرتا رہے گا جیسا کہ افکار صالحہ کی کثرت اور وحی والہامات کے مسلسل آتے رہنے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کا دل مبارک، نیند کی حالت میں بھی نہیں سوتا تھا۔
Top