Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 5688
وعن عوف عن أبي رجاء عن عمر بن حصين قا ل : كنا في سفر مع النبي صلى الله عليه و سلم فاشتكى إليه الناس من العطش فنزل فدعا فلانا كان يسميه أبو رجاء ونسيه عوف ودعا عليا فقال : اذهبا فابتغيا الماء . فانطلقا فتلقيا امرأة بين مزادتين أو سطحتين من ماء فجاءا بهاإلى النبي صلى الله عليه و سلم فاستنزلوهاعن بعيرها ودعا النبي صلى الله عليه و سلم بإناء ففرغ فيه من أفواه المزادتين ونودي في الناس : اسقوا فاستقوا قال : فشربنا عطاشا أربعين رجلا حتى روينا فملأنا كل قربة معنا وإداوة وايم الله لقد أقلع عنها وإنه ليخيل إلينا أنها أشد ملئة منها حين ابتدأ . متفق عليه
پانی میں برکت کا معجزہ
اور حضرت عوف (رح) ( تابعی) حضرت ابورجاء (رح) ( تابعی) سے اور وہ حضرت عمران ابن حصین ؓ ( صحابی) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ( یعنی حضرت عمران نے) بیان کیا ایک سفر میں ہم ( کچھ صحابہ) نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے، ایک موقع پر لوگوں نے آپ سے ( پانی نہ ہونے کے سبب) پیاس کی شکایت کی، آپ ﷺ ( یہ سن کر) اسی جگہ اتر پڑے اور فلاں شخص کو بلایا۔ اس فلاں شخص کا نام ابوجاء نے تو بیان کیا تھا لیکن ( ان کے بعد کے راوی) عوف اس شخص کا نام بھول گئے اس لئے انہوں نے اس شخص کو لفظ فلاں سے تعبیر کیا۔ نیز آپ ﷺ نے حضرت علی کو بھی طلب کیا اور ان دونوں کو حکم دیا کہ جاؤ پانی تلاش کرو، چناچہ وہ دونوں ( یعنی وہ شخص اور حضرت علی پانی کی تلاش میں ادھر ادھر پھرنے لگے، انہوں نے ایک جگہ ایک عورت کو دیکھا، جو اونٹ پر ( لٹکے ہوئے) دو مشکیزوں کے درمیان بیٹھی تھی، یا یہ کہ پانی کے دو سطیحوں کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی، دونوں حضرات اس عورت کو، ( اس کے مشکیزے سمیت) نبی کریم ﷺ کے پاس لائے، پھر اس عورت کو ( یا جیسا کہ بعض حضرات نے لکھا ہے اس کے مشکیزوں کو اونٹ سے اتارا گیا، نبی کریم ﷺ نے ایک برتن منگا کر اس میں دونوں مشکیزوں کے دہانوں سے پانی انڈیلنے کا حکم دیا اور پھر لوگوں کو آوازدی گئی کہ آؤ پانی پیو اور پلاؤ ( اور اپنی اپنی ضرورت کے مطابق لے لو۔۔ )۔ چناچہ سب لوگوں نے خوب پانی پیا ( اور اپنے اپنے برتنوں میں اچھی بھر لیا )۔ حضرت عمران کہتے ہیں کہ اس وقت ہم لوگ چالیس آدمی تھے جو بری طرح پیاسے تھے ہم سب نے اس برتن میں سے خوب سیر ہو کر پانی پیا بھی اور اپنی اپنی مشکیں اور چھاگلیں بھی ہمارے ساتھ تھیں اچھی طرح بھر لی گئیں، اللہ کی قسم جب ہم لوگوں کو روک دیا گیا یعنی جب ہم پانی لے لے کر اس چھاگل کے پاس سے ہٹے تو ہم نے محسوس کیا کہ چھاگل پہلے سے زیادہ بھرئی ہوئی ہے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب نے اس چھاگل سے خوب سیر ہو کر پانی پیا اور جس جس کے پاس جو بھی برتن تھا اس کو اچھی طرح بھر لیا گیا، اس کے بعد اس چھاگل میں نہ صرف یہ کہ پانی جوں کا توں موجود تھا بلکہ یہ ایسا محسوص ہوا کہ یہ چھاگل اس وقت سے بھی زیادہ بھری ہوئی ہے جب اس سے پانی لینا، شروع کیا گیا تھا۔ اس حدیث کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں جو یہاں نقل نہیں ہوئے ہیں کہ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے اس عورت کو کھانا اور غلہ وغیرہ دیا، جب وہ وہاں سے واپس ہو کر اپنی قوم میں پہنچی تو لوگوں سے سارا ماجرا بیان کر کے کہنے لگی کہ وہ شخص یا تو اتنا بڑا جادوگر ہے کہ اس کے برابر کوئی جادوگر زمین و آسمان میں نہیں ہے یا وہ شخص نبی برحق ہے۔
Top