Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6184 - 6254)
Select Hadith
6184
6185
6186
6187
6188
6189
6190
6191
6192
6193
6194
6195
6196
6197
6198
6199
6200
6201
6202
6203
6204
6205
6206
6207
6208
6209
6210
6211
6212
6213
6214
6215
6216
6217
6218
6219
6220
6221
6222
6223
6224
6225
6226
6227
6228
6229
6230
6231
6232
6233
6234
6235
6236
6237
6238
6239
6240
6241
6242
6243
6244
6245
6246
6247
6248
6249
6250
6251
6252
6253
6254
مشکوٰۃ المصابیح - مناقب کا جامع بیان - حدیث نمبر 6060
الزامی جواب
ماننا چاہیے کہ یہ حدیث صحیح ہے، ائمہ حدیث مثلا امام ترمذی، امام نسائی اور امام احمد وغیرہ کی ایک جماعت نے اس کو نقل کیا ہے، اس کے طرق بھی بہت ہیں اور متعدد سلسلہ اسناد سے منقول ہے اور ان میں سے اکثر سلسلہ اسناد صحاح اور حسان ہیں۔ سولہ صحابہ اس حدیث کے روای ہیں بلکہ امام احمد نے ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت علی نے اپنا زمانہ خلافت میں ایک موقع پر جب کہ ان کے مخالفین کا گروہ ان کی خلافت کو نزاعی مسلہ بنائے ہوئے تھا، لوگوں کو ایک میدان میں جمع کرکے ان سے فرمایا کہ میں تم سے ہر ایک کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ تم نے غدیر خم کے مقام پر رسول اللہ ﷺ سے جو کچھ سنا تھا وہ بیان کرو تو اس پر تیس صحابہ نے کھڑے ہو کر یہ حدیث بیان کی اور خلافت علی کے حق میں شہادت دی۔ لہٰذا اس بات کی زیادہ اہمیت نہیں ہے کہ بعض حضرات نے اس حدیث کے صحیح ہونے میں کلام کیا ہے یا یہ کہا ہے کہ حدیث کا آخری حصہ الہم وال من والاہ الخ حقیقت میں اس حدیث کا جزء نہیں ہے بلکہ من گھڑت ہے اور بعد میں اس حدیث کا جزء بنایا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ حصہ بھی حدیث کا جزء ہے اور اس کو متعدد طرق سے نقل کیا گیا ہے جن میں اکثر کو دہبی نے صحیح قرار دیا ہے لیکن جہاں تک اس حدیث سے شیعوں کے مذکورہ استدلال کا تعلق ہے تو اس کی یقینا کوئی بنیاد نہیں ہے۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں اس کو ان سمجھی یا دانستہ طور پر غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کے علاوہ اور کچھ نہیں کہا جاسکتا، لزامی جواب کے طور پر سب سے پہلی بات تو شیعوں سے یہ کہی جاسکتی ہے کہ خود تم اس بات پر متفق ہو کہ امامت کے مسئلہ میں دلیل کے نقطہ نظر سے تواتر کا اعتبا رہے یعنی امامت و خلافت کا استحقاق ثابت کرنے کے لئے وہی حدیث معتبر قرار پاسکتی ہے جو متواتر ہو جو حدیث متواتر نہیں ہے اس کے ساتھ صحت امامت پر استدلال نہ کرنا چاہئے جب کہ یہ حدیث جس کو تم لوگ نص قطعی وصریح قرار دے کر اپنا مستدل بناتے ہو، یقینی طور پر متواتر نہیں ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس کے تو صحیح ہونے میں بھی اختلاف ہے یہ دوسری بات ہے کہ اس اختلاف کو قبول نہیں کیا گیا جن حضرات نے اس حدیث کو مطعون قرار دیا ہے ان میں ابوداؤد سجستانی اور ابوحاتم رازی جیسے ائمہ حدیث اور ارباب عدل بھی شامل ہیں جن کی طرف علم حدیث میں رجوع کیا جاتا ہے اور جن کی ذات محدثین کے ہاں مرجع مانی جاتی ہے، علاوہ ازیں اہل حفظ واتقان مثلا بخاری، ومسلم۔ واقدی اور دوسرے اکابر محدثین میں سے کسی نے بھی اس حدیث کو نقل نہیں کیا ہے جب کہ یہ حضرات حدیث کی طلب و جستجو میں شہر شہر قریہ قریہ پھرتے تھے اور صحیح احادیث کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر جمع کرتے تھے گویا بات نہ فنی طور پر اس حدیث کی صحت رخنہ ڈالتی ہے اور نہ ہم اس حدیث کے صحیح ہونے سے انکار کرتے ہیں لیکن کیا یہ حیرت واستعجاب کی بات نہیں ہے کہ ایسی حدیث کو حدیث متواتر قرار دینے کی کوشش کی جائے جب شیعہ صحت امامت کی دلیل میں حدیث متواتر کا ہونا شرط مانتے ہیں تو اس کا صاف مطلب اس کے علاوہ اور کیا ہوا کہ وہ اس حدیث کو نص قطعی وصریح مان کر گویا اس حدیث کو متواتر قرار دے رہے ہیں۔
Top