مشکوٰۃ المصابیح - سود کا بیان - 2856
ربا کے مذکورہ بالا وسیع مفہوم کے مطابق فقہا نے ربا کی جو قسمیں مرتب کی ہیں ان میں سے عام طور پر یہ پانچ قسمیں بیان کی جاتی ہیں 1 رباء قرض 2 رباء رہن 3 رباء شراکت 4 رباء نسیہ 5 رباء فضل رباء قرض : کا مطلب ہے قرض خواہ قرض دار سے بحسب شرط متعینہ میعاد کے بعد اپنے اصل مال پر کچھ زائد مقدار لینا اس کی مثال مروجہ سود کی صورت ہے یعنی ایک شخص کسی کو اپنے روپیہ کی ایک متعین مقدار ایک متعین میعاد کے لئے اس شرط پر قرض دیتا ہے کہ اتنا روپیہ اس کا ماہوار سود کے حساب سے دینا ہوگا اور اصل روپیہ بدستور باقی رہے گا ربا کی یہ صورت کلیۃً حرام ہے جس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ رباء رہن : کا مطلب ہے بلا کسی مالی معاوضہ کے وہ نفع جو مرتہن کو راہن سے یا شئ مرہونہ سے حاصل ہو اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص (یعنی راہن) اپنی کوئی مللکیت مثلا زیور یا مکان کسی دوسرے شخص ( یعنی مرتہن) کے پاس بطور ضمانت رکھ کر اس سے کچھ روپیہ قرض لے اور وہ مرتہن اس رہن کی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھائے مثلا اس مکان میں رہے یا اسے کرایہ پر چلائے اور یا یہ کہ اس رہن رکھی ہوئی چیز سے فائدہ نہ اٹھائے بلکہ راہن سے نفع حاصل کرے بایں طور کہ قرض دی ہوئی رقم پر سود حاصل کرے رہن کی یہ دونوں ہی صورتیں حرام ہیں۔ رباء شراکت : کا مطلب ہے کسی مشترک کاروبار میں ایک شریک اپنے دوسرے شریک کا نفع متعین کر دے اور جملہ نقصانوں اور فائدوں کا خود مستحق بن جائے یہ بھی حرام ہے۔ رباء نسیہ : کا مطلب ہے دو چیزوں کے باہم لین دین یا دو چیزوں کے باہم خریدو فروخت میں ادھار کرنا خواہ اس ادھار میں اصل مال پر زیادتی لی جائے مثلا ایک شخص کسی دوسرے کو ایک من گیہوں دے اور دوسرا شخص اس کے بدلہ میں اسے ایک ہی من گیہوں دے مگر ایک دو دن یا ایک دو ماہ بعد دے یہ اس صورت کی مثال ہے کہ دو چیزوں میں باہم تبادلہ ہوا مگر یہ تبادلہ دست بدست نہیں ہوا بلکہ ایک طرف سے نقد اور دوسری طرف سے ادھار معاملہ ہوا نیز اس ادھار میں اصل مال پر کوئی کمی بیشی نہیں ہوئی کمی بیشی کے ساتھ ادھار لین دین کی مثال یہ ہے کہ مثلًا ایک شخص کسی دوسرے کو ایک من گیہوں دے گا رباء نسیہ کی یہی وہ صورت ہے جو زمانہ جاہلیت میں بھی رائج تھی اور اب بھی مروجہ سود کی شکل میں موجود ہے اور ایک اعتبار سے یہ رباء قرض کی قسم میں بھی داخل ہے۔ رباء فضل : کا مطلب ہے دو چیزوں میں باہم کمی بیشی کے ساتھ دست بدست لین دین ہو مثلًا ایک شخص کسی کو ایک من گیہوں دے اور اس سے اسی وقت اپنے ایک من گیہوں کے بدلہ میں سوا من گیہوں لے۔ رباء کی یہ دونوں قسمیں یعنی نسیہ اور فضل چونکہ باہم لین دین کی دو بنیادی صورتیں ہیں نیز لا علمی کی بناء پر عام طور پر لوگ ان میں سود کے پیدا ہونے والے حکم سے نابلد ہیں اس لئے مناسب ہے کہ ان کے احکام بیان کرنے سے پہلے چند باتیں بطور تمہید و قاعدہ بیان کردی جائیں تاکہ ان احکام کو سمجھنے میں دقت نہ ہو۔ 1 : لین دین اور تجارت کا معاملہ جن چیزوں سے متعلق ہوتا ہے وہ تین قسم کی ہیں 1 یا تو ان کا لین دین وزن سے ہوتا ہے 2 یا کسی برتن سے ناپی جاتی ہے 3 یا نہ تو وزن کی جاتی ہیں اور نہ کسی برتن سے ناپی جاتی ہیں پہلی اور دوسری قسم کی مثال غلہ ہے کہ کہیں تو غلہ کو تول کر بیچنے کا دستور ہے اور کہیں برتن میں بھر کرنا پنے کا۔ لین دین اور خریدو فروخت میں جو چیزیں تولی جاتی ہیں ان کو موزون کہتے ہیں اور جو چیزیں ناپی جاتی ہیں ان کو مکیل کہتے ہیں کسی چیز کے موزون یا مکیل ہونے کی صفت کو اصطلاح فقہ میں قدر کہتے ہیں اس مختصر سے لفظ قدر کو ذہن میں رکھئے۔ 2 : ہر چیز کی ایک حقیقت ہوا کرتی ہے مثلا گیہوں کا گیہوں ہونا ٫ چاندی کا چاندی ہونا اور کپڑے کا کپڑا ہونا اسی حقیقت کو جنس کہتے ہیں اور اس لفظ جنس کو بھی یاد رکھنا چاہئے۔ 3 : جن چیزوں کا باہم لین دین ہوتا ہے وہ کبھی تو قدر میں متحد اور مشترک ہوتی ہیں اور جنس میں مختلف ہوتی ہیں مثلا گیہوں اور چنہ یہ دونوں چیزیں قدر میں مشترک یعنی یکساں ہیں کیونکہ دونوں موزون ہیں یا مکیل ہیں مگر جنس میں مختلف یعنی یکساں نہیں ہیں کیونکہ ایک کی حقیقت گیہوں ہے اور دوسرے کی حقیقت چنہ ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جن دو چیزوں میں باہم لین دین ہوتا ہے ان کی جنس تو متحد و یکساں ہوتی ہے مگر قدر میں یکسانیت نہیں ہوتی مثلا ململ کا ململ سے تبادلہ کہ دونوں کی جنس تو ایک ہے مگر چونکہ دونوں موزوں اور مکیل نہیں (کیونکہ ململ کی خریدو فروخت نہ تو تول کر ہوتی ہے اور نہ کسی برتن سے ناپ کر) اس لئے جب یہ دونوں قدر ہی نہیں تو قدر میں ایک کیسے ہوں گی ٫ یا بکری کا بکری سے تبادلہ کہ دونوں کی جنس تو ایک ہے مگر چونکہ موزوں اور مکیل نہیں اس لئے نہ قدر اور نہ اتحاد قدر اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جن دو چیزوں میں باہم لین دین ہوتا ہے ان کی جنس بھی ایک ہوتی ہے اور قدر میں بھی یکسانیت ہوتی ہے جیسے گیہوں کا گیہوں سے تبادلہ کہ ان دونوں کی جنس بھی ایک ہے اور قدر بھی ایک ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جن دو چیزوں میں باہم لین دین ہوتا ہے ان میں نہ تو جنس کی یکسانیت ہوتی ہے اور نہ قدر کی جیسے روپیہ اور کپڑا یا روپیہ اور غلہ (گویا آج کل لین دین اور تجارت کی جو عام شکل ہے) کہ نہ تو ان کی جنس ایک ہے اور نہ قدر ایک ہے لہذا باہم لین دین اور تجارت کی جانیوالی چیزیں چار قسم کی ہوئیں 1 متحد القدر والجنس ( یعنی دونوں کی جنس بھی ایک اور قدر بھی ایک 2 متحد القدر غیر متحد الجنس (یعنی دونوں کی قدر تو ایک مگر جنس الگ الگ 3 متحد الجنس غیر متحد القدر (یعنی دونوں کی جنس تو ایک مگر قدر الگ الگ 4 غیر متحد الجنس و القدر (یعنی دونوں کی نہ تو جنس ایک اور نہ قدر ایک) اس تمہید کو جان لینے کے بعد چیزوں کے باہم لین دین اور تجارت کے سلسلے میں وہ قاعدہ کلیہ سمجھ لیجئے جو اگر ذہن میں رہے تو نہ صرف اس باب کے احکام و مسائل سمجھنے میں آسانی ہوگی بلکہ اپنی عملی زندگی میں بھی رباء اور سود جیسے گناہ سے بچنا آسان ہوگا وہ قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جو چیزیں متحد القدر والجنس ہوں ان کے باہم تبادلہ و تجارت میں شرعی طور پر دو چیزیں ضروری ہیں ایک تو یہ کہ وہ دونوں چیزیں وزن یا پیمانے میں برابر ہوں دوسرے یہ کہ دونوں دست بدست ہوں مثلًا اگر ہم دو شخص آپس میں گیہوں کو گیہوں سے بدلنا چاہیں تو اس میں کمی بیشی درست نہیں ہے یعنی یہ درست نہیں کہ ہم میں سے ایک تو سیر بھر گیہوں دے اور دوسرا سوا سیر دے بلکہ دونوں ہی کو سیر سیر بھر یا سوا سوا سیر ہی دینا ضروری ہے اور نہ یہ درست ہے کہ ایک تو سردست لے لے اور دوسرا کل یا پرسوں یا تھوڑی دیر کے بعد بلکہ ایک ہی مجلس میں اور ایک ہی وقت میں دونوں کو اپنا اپنا حق لینا واجب ہے اور جو چیزیں متحد القدر غیر متحد الجنس ہوں یا متحد الجنس غیر متحد القدر ہوں ان دونوں کا حکم ایک ہے وہ یہ کہ ان کے باہم لین دین میں کمی بیشی تو جائز ہے مگر ادھار جائز نہیں مثلا گیہوں کو چنے سے بدلنا چاہیں کہ ان دونوں کی جنس تو الگ الگ ہے مگر قدر ایک ہے اس لئے ان دونوں کے تبادلہ میں کمی بیشی تو جائز ہوگی کہ ایک شخص ایک سیر گیہوں دے اور دوسرا اس کے بدلے میں سوا سیر چنہ دے مگر ان کے تبادلہ میں ادھار جائز نہیں ہوگا۔ یا اسی طرح ایک بکری اور دوسری بکری سے بدلنا چاہیں کہ ان دونوں کی جنس تو ایک ہے مگر قدر ایک نہیں کیونکہ قدر تو موزون یا مکیل ہونے کو کہتے ہیں اور بکری نہ مکیل ہے اور نہ موزون لہذا ان میں بھی کمی بیشی جائز ہے کہ ایک شخص تو ایک بکری دے اور دوسرا اس کے بدلے میں دو بکریاں دے مگر ان کے تبادلے میں بھی ادھار جائز نہیں ہوگا اور جو چیزیں نہ متحد الجنس ہوں اور نہ متحد القدر ہوں ان میں کمی بیشی بھی جائز ہے اور نقد وادھار کا فرق بھی جائز ہے مثلا روپیہ اور غلہ کی باہم تجارت (جیسا کہ آج کل رائج ہے کہ اشیاء کا لین دین روپیہ کے ذریعہ ہوتا ہے) کہ ان دونوں کی نہ تو جنس ایک اور ان کی قدر ایک ہے لہذا اگر کوئی شخص روپیہ دے کر غلہ خریدنا چاہے تو اس صورت میں کمی بیشی بھی جائز ہے کہ چاہے تو ایک روپیہ کے بدلے میں ایک سیر غلہ لیا دیا جائے اور چاہے ایک روپیہ کے بدلے میں دو سیر غلہ لیا دیا جائے اس طرح اس صورت میں ادھار لین دین بھی جائز ہے کہ چاہے تو دست بدست لین دین ہو چاہے ادھار کی صورت میں اب اس قاعدہ کلیہ کا حاصل چار قاعدے ہوئے۔ 1 : اشیاء متحد القدر ومتحد الجنس کے لین دین میں برابری اور دست بدست ہونا واجب ہے 2 : اشیاء متحد القدر وغیر متحد الجنس کے لین دین میں نہ برابری واجب ہے اور نہ دست بدست ہونا واجب ہے 3 : اشیاء متحد الجنس غیر متحد القدر کے لین دین میں دست بدست ہونا ضروری ہے مگر برابری ضروری نہیں 4 : اشیاء متحد القدر غیر متحد الجنس کے لین دین میں دست بدست ہونا ضروری ہے مگر برابری ضروری نہیں ان تمام بنیادی اور تمہیدی باتوں کو ذہن میں رکھ اب رباء ان دونوں اقسام یعنی نسیہ اور فضل کے احکام کی جانب آئے جن کا تذکرہ شروع میں کیا گیا تھا چناچہ اگر لین دین ایسی دو چیزوں کے درمیان ہو جن میں اتحاد جنس بھی پایا جائے اور اتحاد قدر بھی یعنی وہ دونوں متحد الجنس بھی ہوں اور متحد القدر بھی ( جیسے گیہوں) تو حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس لین دین میں رباء نسیہ بھی حرام ہے اور رباء فضل بھی اور یہ بات پہلے بتائی جا چکی ہے کہ جنس سے مراد ہے اس چیز کی حقیقت اور قدر سے مراد ہے اس چیز کا مکیل یا موزون ہونا کیونکہ لین دین اور تجارت کے معاملات میں شرعی معیار یہی کیل ہے یا وزن۔ اس ضمن میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ شارع نے جس چیز کو مکیل (یعنی پیمانہ سے ناپی جانے والی) کہا ہے وہ موزون (یعنی تولی جانیوالی) نہیں ہوگی اگرچہ عرف عام اور رواج کے اعتبار سے وہ موزوں ہی ہوں اسی طرح جس چیز کو موزون کہا ہے وہ مکیل نہیں ہوگی اگرچہ عرف عام اور رواج کے اعتبار سے وہ مکیل ہو مثلا گیہوں کو شارع نے ان چیزوں میں شمار کیا ہے جن کا لین دین پیمانہ سے ناپ کر ہوتا ہے اگرچہ آج کل عام طور پر گیہوں کا لین دین وزن کے ذریعے ہوتا ہے ( گو بعض علاقوں میں اب بھی اس کا لین دین ناپ کر ہی ہوتا ہے) اس لئے گیہوں کا گیہوں کے ساتھ لین دین کرنا وزن کے ذریعے جائز نہیں ہوگا اسی طرح چاندی اور سونے کو شارع نے چونکہ موزون کہا ہے اس لئے چاندی کا چاندی کے ساتھ یا سونے کا سونے کے ساتھ لین دین کیل کے ذریعے جائز نہیں ہوگا اس حکم کی وجہ یہ ہے کہ کسی معاملے میں شارع کا واضح حکم عرف عام اور رواج سے کہیں قوی اور برتر ہوتا ہے ہاں جن چیزوں کو شارع نے نہ مکیل کہا ہے اور نہ موزوں ان کے لین دین عرف عام اور رواج ہی کا اعتبار ہوگا لیکن یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ حنفیہ میں سے حضرت امام ابویوسف نے مطلق طور پر عرف عام اور رواج ہی کا اعتبار کیا ہے ان کے نزدیک ان چیزوں کا لین دین وزن کے ذریعے جائز ہے جن کو شرعت نے مکیل کہا ہے بشرطیکہ عرف عام اور رواج وزن کے ذریعے ہی اس کے لین دین کا ہو چناچہ کمال نے حضرت امام ابویوسف ہی کے قول کو ترجیح دی ہے اور اسی بناء پر انہوں نے نقود مسکو کہ (یعنی سونے اور چاندی کے سکہ مثلًا اشرفی وغیرہ کا گنتی کے ذریعے بطور قرض لین دین یا آٹے کی وزن کے ذریعے خریدو فروخت کو جائز قرار دیا ہے نیز مستند ترین کتاب کافی میں بھی یہی ہے کہ حنفیہ کے ہاں اس بارے میں حضرت امام ابویوسف ہی کے قول پر فتوی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ شارع نے گیہوں (یا دوسرے غلوں) کو مکیل کہا ہے لیکن ان کا لین دین وزن کے ذریعے بلاشبہ جائز ہے کیونکہ آج کل عام طور پر ان کا لین دین وزن ہی کے ذریعے ہوتا ہے۔ بہرکیف اتحاد جنس اور اتحاد قدر والی چیزوں کے لین دین کے بارے میں تو معلوم ہوگیا کہ ان میں رباء نسیہ بھی حرام ہے اور رباء فضل بھی۔ اسی طرج اگر لین دین ایسی دو چیزوں کے درمیان ہو جن میں جنس وقدر میں سے کسی ایک کا اتحاد پایا جائے مثلًا وہ متحد الجنس تو ہوں مگر متحد القدر نہ ہوں تو ان کے بارے میں یہ حکم ہے کہ ایسی چیزوں کے لین دین میں رباء نسیہ تو حرام ہے مگر رباء فضل حرام نہیں ہے۔ لہذا اگر گیہوں کا گیہوں کے ساتھ یا چنے کا چنے کے ساتھ یا چونے کا چونے کے ساتھ یا سونے کا سونے کے ساتھ یا لوہے کا لوہے کے ساتھ لین دین کیا جائے تو اس صورت میں فضل (یعنی کمی بیشی کے ساتھ دست بدست لینا دینا) بھی حرام ہوگا اور نسیہ ( یعنی ادھار لینا دینا) بھی حرام ہے اور نسیہ ( یعنی ادھار لینا دینا) بھی حرام ہوگا کیونکہ یہاں اتحاد قدر بھی پایا جاتا ہے اور اتحاد جنس بھی اور اگر گیہوں کا چنے کے ساتھ یا سونے کا چاندی کے ساتھ اور لوہے کا تانبے کے ساتھ لین دین کیا جائے تو اس صورت میں فضل ( یعنی کمی بیشی کے ساتھ دست بدست لینا دینا) تو حلال ہوگا لیکن نسیہ ( یعنی ادھار لینا دینا) حرام ہوگا کیونکہ یہاں صرف اتحاد قدر موجود ہے بایں طور کہ گیہوں اور چنے کا لین دین بھی کیل یا وزن کے ساتھ ہوتا ہے لوہے اور تانبے کا لین دین بھی وزن کے ساتھ ہوتا ہے اور چاندی کا لین دین بھی وزن کے ساتھ ہوتا ہے لیکن یہاں اتحاد جنس موجود نہیں ہے اور اگر کسی کپڑے کے ایک ٹکڑے کا اس کپڑے کے دوسرے ٹکڑے کے ساتھ یا گھوڑے کا گھوڑے کے ساتھ لین دین کیا جائے تو اس صورت میں بھی فضل حلال ہوگا اور نسیہ حرام ہوگا کیونکہ یہاں اتحاد جنس موجود ہے مگر اتحاد قدر نہیں ہے بایں طور کہ نہ تو کپڑا ہی مکیل یا موزون ہے اور نہ گھوڑا ہی مکیل یا موزون ہے جبکہ معیار شرعی مکیل یا موزون ہوتا ہے اور گز وغیرہ معیار شرعی نہیں ہے۔ اور اگر لین دین ایسی دو چیزوں کے درمیان ہو جن میں نہ تو اتحاد قدر ہو اور نہ اتحاد جنس تو ان کے بارے میں یہ حکم ہے کہ ایسی چیزوں کے لین دین میں فضل بھی حلال ہوگا اور نسیہ بھی مثلا اگر گیہوں کا چاندی یا لوہے کے ساتھ لین دین کیا جائے تو اس صورت میں فضل اور نسیہ دونوں جائز ہیں اس لئے کہ یہاں نہ اتحاد جنس ہے اور نہ اتاحد قدر بایں طور کہ گیہوں تو مکیل ہے اور چاندی یا لوہا موزون ہے اسی طرح لوہے کا سونے کے ساتھ یا سونے کا لوہے کے ساتھ لین دین کرنے کی صورت میں بھی فضل ونسیہ دونوں جائز ہیں کیونکہ یہاں بھی نہ اتحاد جنس ہے اور نہ اتحاد قدر بایں طور کہ سونا تولنے کے باٹ ترازو کی قسم الگ ہوتی ہے اور لوہا جن باٹ ترازو سے تولا جاتا ہے ان کی علیحدہ قسم ہوتی ہے گیہوں کا چونے کے لین دین کا پیمانہ الگ قسم کا ہوتا ہے ( لیکن یہ ان علاقوں کی صورت ہے جہاں گیہوں اور چونے کا لین دین وزن کے ساتھ نہیں بلکہ پیمانے کے ذریعے ہوتا ہے۔
Top