Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3344 - 3425)
Select Hadith
3344
3345
3346
3347
3348
3349
3350
3351
3352
3353
3354
3355
3356
3357
3358
3359
3360
3361
3362
3363
3364
3365
3366
3367
3368
3369
3370
3371
3372
3373
3374
3375
3376
3377
3378
3379
3380
3381
3382
3383
3384
3385
3386
3387
3388
3389
3390
3391
3392
3393
3394
3395
3396
3397
3398
3399
3400
3401
3402
3403
3404
3405
3406
3407
3408
3409
3410
3411
3412
3413
3414
3415
3416
3417
3418
3419
3420
3421
3422
3423
3424
3425
مشکوٰۃ المصابیح - نفقات اور لونڈی غلام کے حقوق کا بیان - حدیث نمبر 1281
نماز ضحی کا بیان
ضحٰی مشتق ہے الضحو والضحوۃ سے جس کے معنی ہیں آفتاب کا بلند ہونا، دن کا چڑھنا، چاشت کا وقت، چناچہ آفتاب بلند ہونے کے بعد پڑھی جانے والی نماز کو نماز ضحی کہتے ہیں۔ ضحی کی دو نمازیں ہیں نماز اشراق اور نماز چاشت ضحی کی دو نمازیں ہیں ایک نماز کو اشراق کہتے ہیں اور دوسری نماز نماز چاشت کہلاتی ہے یعنی بقدر ایک یا دو نیزے تک آفتاب بلند ہونے کے بعد، جب کہ وقت مکروہ ختم ہوجاتا ہے اور نماز پڑھنے کا وقت شروع ہوجاتا ہے تو پہلے پہر تک ضحی کی جو نماز پر ھی جاتی ہے اسے اصطلاح میں نماز اشراق کہتے ہیں اور جب آفتاب خوب بلند ہوجائے، فضاء میں اچھی طرح گرمی پیدا ہوجائے اور دھوپ اتنی زیادہ پھیل جائے کہ دوسرا پہر شروع ہوجائے تو زوال سے پہلے پہلے ضحی کی نماز پڑھی جاتی ہے وہ اصطلاح میں نماز چاشت کہلاتی ہے عربی میں ان دونوں کو ضحوۃ صغری اور ضحوۃ کبری کہتے ہیں۔ نسائی نے ایک روایت نقل کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جب آفتاب مشرق کی جانب ایسا ہوتا ہے جیسا کہ عصر کے وقت مغرب کی جانب ہوتا ہے تو رسول اللہ ﷺ دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ اور جب آفتاب مشرق کی جانب ایسا ہوتا جیسا کہ ظہر کے وقت مغرب کی جانب ہوتا ہے تو آپ ﷺ چار رکعت نماز پڑھتے۔ اسی حدیث سے معلوم ہوا کہ ضحی کی دو نمازیں ہیں۔ نما زاشراق کی کم از کم دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں اور زیادہ سے زیادہ چھ رکعتیں۔ اسی طرح نماز چاشت کی کم سے کم دو رکعتیں ہیں اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعتیں لیکن علماء کے نزدیک مختار چار رکعتیں ہی پڑھنا ہے کیونکہ جن احادیث سے رسول اللہ ﷺ کا چار رکعتیں پڑھنا ثابت ہے وہ احادیث زیادہ صحیح ہیں پھر یہ کہ زیادہ احادیث و آثار چار رکعتوں ہی کے بارے میں منقول ہیںَ نماز ضحی کی بہت زیادہ فضیلت منقول ہے یہ نماز اکثر علماء کے قول کے مطابق مستحب ہے یہ نماز اس نیت سے پڑھی جاتی ہے۔ نَوَیْتُ اَنْ اُصَلِّیَ اَرْبَعَ رَکَعَاتٍ صَلٰوۃِ الضُّحٰی سُنَّۃَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہ عَلیْہِ وَسَلَّمَ۔ میں نے یہ ارادہ کیا کہ چار رکعت نماز ضحی جو رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے پڑھوں۔ شیٰخ ولی الدین ابن عراقی فرماتے ہیں کہ صلوٰۃ ضحی کے بارے میں صحیح اور مشہور حدیثیں بہت زیادہ منقول ہیں یہاں تک کہ محمد ابن جریر طبرانی نے کہا ہے کہ اس بارے میں جو احادیث منقول ہیں وہ درجہ تو اتر معنوی کو پہنچی ہوئی ہیں۔ قاضی ابوبکر صدیق فرماتے ہیں کہ یہ نماز پچھلے انبیاء اور رسولوں کی نماز ہے۔ علامہ سیوطی نے دیلمی سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث نقل کی ہے کہ نماز ضحی حضرت داؤد (علیہ السلام) کی اکثر نماز ہے۔ ابن بخار نے حضرت ثوبان کی یہ حدیث نقل کی ہے کہ نماز ضحی وہ نماز ہے جسے حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ و آدم (علیہم السلام) ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔
Top