Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3344 - 3425)
Select Hadith
3344
3345
3346
3347
3348
3349
3350
3351
3352
3353
3354
3355
3356
3357
3358
3359
3360
3361
3362
3363
3364
3365
3366
3367
3368
3369
3370
3371
3372
3373
3374
3375
3376
3377
3378
3379
3380
3381
3382
3383
3384
3385
3386
3387
3388
3389
3390
3391
3392
3393
3394
3395
3396
3397
3398
3399
3400
3401
3402
3403
3404
3405
3406
3407
3408
3409
3410
3411
3412
3413
3414
3415
3416
3417
3418
3419
3420
3421
3422
3423
3424
3425
مشکوٰۃ المصابیح - نفقات اور لونڈی غلام کے حقوق کا بیان - حدیث نمبر 1731
وعن عائشة قالت : لما جاء النبي صلى الله عليه و سلم قتل ابن حارثة وجعفر وابن رواحة جلس يعرف فيه الحزن وأنا أنظر من صائر الباب تعني شق الباب فأتاه رجل فقال : إن نساء جعفر وذكر بكاءهن فأمره أن ينهاهن فذهب ثم أتاه الثانية لم يطعنه فقال : انههن فأتاه الثالثة قال : والله غلبننا يا رسول الله فزعمت أنه قال : فاحث في أفواههن التراب . فقلت : أرغم الله أنفك لم تفعل ما أمرك رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم تترك رسول الله صلى الله عليه و سلم من العناء
میت پر رونے کی ممانعت
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کے پاس زید بن حارثہ، جعفر اور ابن رواحہ کے (غزوہ موتہ میں) شہید کر دئیے جانے کی اطلاع آئی تو آپ ﷺ (مسجد نبوی ﷺ میں) بیٹھ گئے، آپ ﷺ کے چہرہ پر رنج و غم کے آثار نمایاں تھے اور میں (آپ کی کیفیت) دروازے کے سوراخ سے دیکھے جا رہی تھی کہ اتنے میں ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ جعفر کے گھر کی عورتیں اس طرح کر رہی ہیں یعنی اس نے ان کے رونے کا ذکر کیا آنحضرت ﷺ نے اسے حکم فرمایا کہ وہ جا کر انہیں منع کر دے۔ وہ چلا گیا (تھوڑی دیر کے بعد) دوسری مرتبہ واپس آ کر بتایا کہ عورتیں نہیں مان رہی ہیں، آنحضرت ﷺ نے پھر اس سے فرمایا کہ جا کر منع کردو۔ وہ چلا گیا اور جا کر منع کیا اور کچھ دیر کے بعد پھر تیسری مرتبہ آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! اللہ کی قسم وہ عورتیں ہم پر غالب آگئیں یعنی وہ ہمارا کہنا نہیں مان رہی ہیں حضرت عائشہ کا گمان ہے کہ یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ ان کے منہ میں مٹی ڈالو۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں اس شخص سے کہنے لگی کہ اللہ تمہاری ناک خاک آلود کرے تمہیں رسول کریم ﷺ نے جو حکم دیا ہے اس پر عمل کیوں نہیں کیا؟ اور تم رسول کریم ﷺ کو رنج پہنچانے کا سبب بنے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
ان کے منہ میں مٹی ڈالو۔ بظاہر معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ اس بات سے کنایہ ہے کہ انہیں اپنے حال پر چھوڑ دو کیونکہ شدید رنج و غم کی وجہ سے جزع و فزع کی حالت میں نصیحت ان پر کار گر نہیں ہو رہی ہے۔ ارغم اللہ سے آخر تک حضرت عائشہ ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تمہیں ذلیل کرے کیونکہ تم نے آنحضرت ﷺ کو ایذاء پہنچائی آپ ﷺ کو رنچ پہنچانے کا سبب بنے اس لئے کہ آنحضرت ﷺ کو یہ سن کر شدید رنج پہنچا کہ وہ عورتیں گناہ کبیرہ میں مبتلا ہیں اور منع کرنے کے باوجود رونے سے باز نہیں آرہی ہیں اگر تم ڈانٹ ڈپٹ کر اور سختی کے ساتھ ان عورتوں کو اس فعل سے منع کردیتے تو آنحضرت ﷺ کو یہ شدید روحانی اذیت وکوفت نہ وہتی۔
Top