Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3344 - 3425)
Select Hadith
3344
3345
3346
3347
3348
3349
3350
3351
3352
3353
3354
3355
3356
3357
3358
3359
3360
3361
3362
3363
3364
3365
3366
3367
3368
3369
3370
3371
3372
3373
3374
3375
3376
3377
3378
3379
3380
3381
3382
3383
3384
3385
3386
3387
3388
3389
3390
3391
3392
3393
3394
3395
3396
3397
3398
3399
3400
3401
3402
3403
3404
3405
3406
3407
3408
3409
3410
3411
3412
3413
3414
3415
3416
3417
3418
3419
3420
3421
3422
3423
3424
3425
مشکوٰۃ المصابیح - نفقات اور لونڈی غلام کے حقوق کا بیان - حدیث نمبر 3185
متعلقہ ضروری مسائل
یہاں تک محرمات کا ذکر پورا ہوگا اب ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس باب سے متعلق چند ضروری مسائل نقل کر دئے جائیں۔ نکاح متعہ باطل ہے اور جب کسی عورت سے اس طرح کا نکاح یعنی متعہ جائز نہیں ہوگا تو نہ اس سے جماع کرنا حلال ہوگا اور نہ اس پر طلاق واقع ہوگی اور نہ اس پر ایلاء اور ظہار کے احکام نافذ ہوں گے اسی طرح ان کے درمیان وارثت کا کوئی سلسلہ بھی قائم نہیں ہوگا۔ نکاح متعہ کی صورت یہ ہے کہ کوئی مرد کسی ایسی عورت سے جو موانع (یعنی کسی دوسرے کی زوجیت یا عددت وغیرہ) سے خالی ہو یہ کہے کہ میں مال کی اتنی مقدار مثلا ایک ہزار روپیہ کے عوض اتنی مدت مثلا دس روز کے لئے تمتع یعنی فائدہ اٹھاؤں گا یا یوں کہے کہ تم اتنے روپے کے عوض دس روز یا چند روز تک اپنے نفس سے مجھے متمتع یعنی بہرہ مد کرو اور جس طرح نکاح متعہ ناجائز ہے اسی طرح نکاح مؤقت بھی ناجائز ہے اور نکاح مؤقت میں مدت قلیل ہو یا کثیر متعین ہو یا غیر متعین بہر صورت نکاح ناجائز ہوگا، ہاں اگر دونوں کسی ایسی مدت کا تعین کریں جو اتنی طویل ہو کہ اتنی مدت تک دونوں کا زندہ رہنا ناممکن ہو مثلا یہ کہیں کہ ہم نے ایک ہزار سال کے لئے نکاح کیا تو اس صورت میں نکاح مؤقت کا حکم جاری نہیں ہوگا بلکہ نکاح صحیح ہوجائے گا اور وقت کی شرط باطل ہوجائے گی۔ جیسا کہ نکاح کا وقت وقوع قیامت یا خروج دجال یا نزول عیسیٰ تک کی مدت بیان کرنے کی صورت میں نکاح کرنیوالے کا یہ خیال تھا کہ اس کو ایک سال تک اپنے پاس رکھو گا پھر چھوڑ دوں گا تو اس صورت میں بھی نکاح صحیح ہوجاتا ہے۔ اور اگر کسی شخص نے کسی عورت سے اس شرط پر نکاح کیا کہ ایک ماہ بعد طلاق دیدوں گا تو نکاح صحیح ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے نکاح کے وقت عورت سے یہ شرط کی کہ میں دن میں تمہارے ساتھ رہا کروں گا رات میں نہیں تو یہ نکاح بھی صحیح ہوجائے گا۔ اگر مرد و عورت دونوں احرام باندھے ہوئے ہوں تو ان کے لئے احرام کی حالت میں نکاح کرنا جائز ہے اسی طرح اگر کوئی ولی احرام باندھے ہوئے ہو تو احرام کی حالت میں اس عورت کا نکاح کرسکتا ہے جس کا وہ ولی ہے۔ ایک عورت نے (قاضی کی عدالت میں) کسی مرد مثلا زید کے بارے میں دعوی کیا کہ اس نے میرے ساتھ نکاح کیا ہے اور ثبوت کے طور پر اس نے دو گواہ بھی پیش کردیئے، قاضی نے فیصلہ کردیا کہ زید اس عورت کا شوہر ہے حالانکہ واقعۃً زید نے اس عورت سے نکاح نہیں کیا تھا تو اس عورت کے لئے جائز ہوگا کہ وہ زید کے ساتھ رہنے لگے اور زید کے لئے یہ جائز ہوگا کہ اگر وہ عورت اس سے جماع کی خواہش ظاہر کرے تو اس سے جماع کرے۔ یہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا قول ہے اور حضرت امام ابویوسف کا پہلا قول بھی یہی ہے لیکن ان کا دوسرا قول اس کے خلاف ہے اور حضرت امام محمد کے قول کے مطابق ہے امام محمد کا قول یہ ہے کہ اس صورت میں مرد کے لئے اس عورت سے جماع کرنا جائز نہیں ہوگا۔ مسئلہ مذکورہ میں قاضی کا فیصلہ عقد نکاح کے حکم میں ہوگا (یعنی یہ سمجھا جائے گا کہ گویا قاضی نے اس وقت نکاح کردیا اس لئے عورت کو مرد کے ساتھ رہنے اور امام اعظم کے قول کے مطابق اس کی خواہش پر زید کو اس سے جماع کرنے کی بھی اجازت ہے) لیکن شرط یہ ہے کہ اس وقت عورت میں نکاح کی صلاحیت ہو ( یعنی ایسا کوئی مانع موجود نہ ہو جو اس کو زید کی بیوی بننے سے روک دے) چناچہ اگر یہ صورت ہو کہ قاضی کے فیصلہ کے وقت وہ عورت کسی دوسرے شخص کے نکاح میں ہو یا پہلے شوہر کے طلاق دیدینے کی وجہ سے عدت کے دن گزار رہی ہو یا اس مرد یعنی زید نے اس کو تین طلاق دے رکھی ہوں تو پھر قاضی کا فیصلہ نافذ نہیں ہوگا اور یہ عورت زید کی بیوی نہیں بنے گی۔ اسی طرح اکثر علماء کے نزدیک قاضی کے فیصلہ کے نفاذ کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ اس فیصلہ کے وقت گواہ بھی موجود ہوں اور اگر خود زید کسی عورت کے بارے میں دعوی کرے کہ میں نے اس عورت سے نکاح کیا تھا اور اپنے دعوی کے ثبوت میں گواہ پیش کرے تو اس کا بھی وہی حکم ہوگا جو اوپر ذکر کیا گیا ہے اسی طرح اگر کوئی عورت قاضی کی عدالت میں یہ دعوی کرے کہ میرے شوہر زید نے مجھے طلاق دیدی تھی اور اس نے جھوٹے گواہ بھی پیش کئے تو قاضی طلاق کا فیصلہ صادر کر دے گا باوجودیکہ وہ عورت جانتی ہے کہ میں نے جھوٹ بولا ہے لہذا قاضی کا یہ فیصلہ طلاق کے حکم میں ہوگا اور اس عورت پر طلاق واقع ہوجائے گی اس کے بعد وہ عورت عدت کے دن گزار کر کسی دوسرے مرد سے نکاح کرسکتی ہے اور گواہ کے لئے بھی اس عورت سے نکاح کرنا جائز ہوگا نیز وہ عورت نہ تو پہلے شوہر زید کے لئے حلال ہوگی یعنی اس سے نکاح نہیں کرسکتی اور نہ اس کے لئے کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنا جائز ہوگا، نیز وہ عورت اپنے پہلے خاوند یعنی زید کے لئے حرام ہوجائے گی لیکن حضرت امام ابویوسف یہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں وہ عورت نہ تو پہلے شوہر زید کے لئے حلال ہوگی یعنی اس سے نکاح نہیں کرسکتی اور نہ اس کے لئے کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنا جائز ہوگا، حضرت امام محمد کا یہ قول ہے کہ جب تک دوسرا مرد جس سے اس نے نکاح کرلیا ہو) اس سے جماع نہ کرے پہلے شوہر کے لئے حلال رہے گی اگر دوسرا مرد اس سے جماع کرلے گا تو پھر جب تک اس کی عدت پوری نہ ہوجائے عدت واجب ہونے کی وجہ سے پہلے شوہر کے لئے حرام رہے گی، گویا امام محمد کے نزدیک دوسرے کے ساتھ اس کا نکاح سرے سے جائز ہی نہیں ہوتا۔ ایک شخص مثلا زید نے کسی عورت مثلا خالدہ کے بارے میں دعوی کیا کہ اس نے میرے ساتھ نکاح کیا تھا لیکن خالدہ نے اس سے انکار کیا اس کے بعد زید نے خالدہ سے صلح کرنی چاہی اور اس سے کہا کہ اگر تم اقرار کرلو تو میں تمہیں ایک سو روپے دوں گا۔ خالدہ نے اقرار کرلیا تو اب زید پر یہ مال یعنی خالدہ کو ایک سو روپیہ دینا واجب ہوگا اور خالدہ کا یہ اقرار عقد نکاح سمجھا جائے گا چناچہ خالدہ نے یہ اقرار اگر گواہوں کے سامنے کیا ہوگا تو نکاح صحیح ہوجائے گا اور خالدہ کے لئے زید کے ساتھ رہنا عند اللہ بھی صحیح سمجھا جائے گا ( یعنی اس صورت میں وہ دونوں نہ صرف دنیاوی اور قانونی طور پر میاں بیوی سمجھے جائیں گے بلکہ اس کی وجہ سے ان پر کوئی گناہ بھی نہیں ہوگا) ہاں اگر خالدہ کے اقرار کے وقت گواہ موجود نہ ہوں گے تو نہ نکاح منعقد ہوگا اور نہ خالدہ کے لئے زید کے ساتھ رہنا جائز ہوگا۔
Top