Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3344 - 3425)
Select Hadith
3344
3345
3346
3347
3348
3349
3350
3351
3352
3353
3354
3355
3356
3357
3358
3359
3360
3361
3362
3363
3364
3365
3366
3367
3368
3369
3370
3371
3372
3373
3374
3375
3376
3377
3378
3379
3380
3381
3382
3383
3384
3385
3386
3387
3388
3389
3390
3391
3392
3393
3394
3395
3396
3397
3398
3399
3400
3401
3402
3403
3404
3405
3406
3407
3408
3409
3410
3411
3412
3413
3414
3415
3416
3417
3418
3419
3420
3421
3422
3423
3424
3425
مشکوٰۃ المصابیح - نفقات اور لونڈی غلام کے حقوق کا بیان - حدیث نمبر 5590
وعن النعمان بن بشير قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أنذرتكم النار أنذرتكم النار فما زال يقولها حتى لو كان في مقامي هذا سمعه أهل السوق وحتى سقطت خميصة كانت عليه عند رجليه . رواه الدارمي
عذاب دوزخ سے آگاہی :
اور حضرت نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا (لوگو! ) میں نے تم کو دوزخ کی آگ سے ڈرایا، میں نے تم کو دوزخ کی آگ سے ڈرایا۔ آپ ﷺ یہ باربار فرما رہے تھے (اور ایک عجیب کیفیت کے عالم میں جھوم جھوم کر اتنی بلند آواز سے فرما رہے تھے کہ) اگر آپ اس جگہ تشریف فرما ہوتے جہاں اس وقت میں بیٹھا ہوں تو یقینا آپ ﷺ کی آواز بازار والے سنتے یہاں تک کہ اس وقت ( اس جھومنے کی وجہ سے آپ ﷺ کی کالی کملی جو کاندھے پر پڑی تھی پیروں میں گر پڑی تھی۔
تشریح
میں نے تم کو دوزخ کی آگ سے ڈرایا۔ کا مطلب یہ تھا کہ میں نے تم کو عذاب دوزخ کے وقوع پذیر ہونے کی خبر دی۔ اس عذاب کی شدت و سختی سے آگاہ کردیا کھول کھول کر یہ بیان کردیا کہ عقیدہ وعمل کا کونسا راستہ دوزخ کی طرف لیجاتا ہے اور کون سا راستہ اس سے بچاتا ہے اور میں نے کتنی ہی وہ مختلف صورتیں بتادی ہیں جن کو تم اپنی استطاعت و طاقت کے بقدر اختیار کرکے دوزخ کی آگ سے محفوظ رہ سکتے ہو، میں نے یہاں تک کہا ہے کہ اتقوا النارولو بشق تمرۃ۔ یعنی (صدقہ و خیرات دوزخ سے بچانے والے ہیں) اگر تم کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ و خیرات کرسکتے ہو تو وہی صدقہ و خیرات کرکے دوزخ کی آگ سے بچواب اگر اس کے بعد بھی تم میں سے کوئی شخص دوزخ کے عذاب سے نہیں ڈرتا اور ایسے راستے اختیار کرتا ہے جو اس کو سیدھا دوزخ میں لے جانے والے ہیں، تو وہ شخص جانے۔
Top