مشکوٰۃ المصابیح - مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان - حدیث نمبر 3909
وعن عمير مولى آبي اللحم قال : شهدت خيبر مع ساداتي فكلموا في رسول الله صلى الله عليه و سلم وكلموه أني مملوك فأمرني فقلدت سيفا فإذا أنا أجره فأمر لي بشيء من خرثي المتاع وعرضت عليه رقية كنت أرقي بها المجانين فأمرني بطرح بعضها وحبس بعضها . رواه الترمذي وأبو داود إلا أن روايته انتهت عند قوله : المتاع
غلام کو مال غنیمت میں سے تھو ڑا بہت دیا جا سکتا ہے
اور حضرت عمیر ابی اللحم کے آ زاد کردہ غلام تھے کہتے ہیں کہ میں اپنے مالکوں کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک ہوا ہوں ( اس غزوہ کے لئے روانگی کے وقت) میرے مالکوں نے میرے بارے میں رسول کریم ﷺ سے گفتگو کی ( یعنی انہوں نے میری تعریف و توصیف کی اور عرض کیا کہ میدان جنگ میں لڑنے کے لئے یا خدمت کی غرض سے عمیر کو بھی ساتھ لے چلیے) نیز انہوں نے آنحضرت ﷺ کو یہ بھی بتایا کہ میں ایک مملوک ( غلام) ہوں، آپ ﷺ نے ( میرے مالکوں کی درخواست منظور فرمائی اور) مجھ کو حکم دیا کہ میں مسلح ہوجاؤں مجاھدین کے ساتھ شامل رہوں، چناچہ مجھے تلوار سے مسلح کیا گیا ( یعنی تلوار میری گردن میں ڈال دی گئی) میں ( جب چلتا تو صغر سنی کی وجہ سے یا اپنے کوتاہ قد ہونے کے سبب) اس تلوار کو زمین پر گھسیٹتا ہوا چلتا، پھر ( دشمنوں پر غلبہ حاصل کرلینے کے بعد مال غنیمت کی تقسیم شروع ہوئی تو) آنحضرت ﷺ نے اس مال غنیمت میں سے تھوڑا بہت مجھے بھی دئیے جانے کا حکم صادر فرمایا۔ نیز (ایک موقع پر) میں نے آنحضرت ﷺ کو اپنا وہ منتر پڑھ کر سنایا جو میں دیوانگی کے مریضوں پر پڑھا کرتا تھا اور آپ ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ ﷺ نے مجھے اس کے بعض حصوں کو موقوف کردینے اور بعض حصوں کو باقی رکھنے کا حکم دیا۔ اس روایت کو ترمذی اور ابوداؤد نے نقل کیا ہے لیکن ابوداؤد کی روایت لفظ المتاع پر پوری ہوگئی ہے۔

تشریح
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ عمیر جو منتر جانتے تھے اس سے بعض کلمات اسلامی عقائد کے منافی ہوں گے، لہذا آپ ﷺ نے ان کلمات کو ترک کردینے کا حکم دیا البتہ جو کلمات اسلامی عقائد وتعلیمات کے منافی نہیں تھے ان کو باقی رکھنے کی اجازت دے دی۔
Top