مشکوٰۃ المصابیح - ذکراللہ اور تقرب الی اللہ کا بیان - 2279
تقرب الی اللہ یعنی اللہ کا قرب و نزدیکی حاصل کرنے سے ذکر اللہ کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کرنا بھی مراد ہوسکتا ہے اور نوافل کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل کرنا بھی مراد ہوسکتا ہے۔ ذکر اللہ کی قسمیں ذکر اللہ (اللہ کا ذکر) دل سے بھی ہوتا ہے اور زبان سے بھی اور افضل یہ ہے کہ دل اور زبان دونوں سے اللہ کا ذکر ہو اور اگر ان میں سے کسی ایک سے ہو تو پھر دل کا ذکر افضل ہے۔ اب ذکر بالقلب (دل سے اللہ کا ذکر) کی بھی دو قسمیں ہیں ایک قسم تو یہ ہے اللہ کی عظمت میں، جبروت و ملکوت میں اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں جو زمین و آسمان میں ہیں، غور و فکر اور استغراق اس قسم کے ذکر کو ذکر خفی کہتے ہیں۔ حدیث شریف میں منقول ہے کہ وہ ذکر خفی ستر درجہ افضل ہے جسے حفظہ (یعنی اعمال لکھنے والے فرشتے) بھی نہیں سنتے چناچہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو حساب کتاب کے لئے جمع کرے گا تو حفظہ (اعمال لکھنے والے فرشتے) وہ تمام ریکارڈ لے کر حاضر ہوں گے جنہیں انہوں نے اپنی نوشت اور یادداشت میں محفوظ کر رکھا ہوگا وہ تمام ریکارڈ دیکھ کر اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ دیکھو میرے بندوں کے اعمال میں اور کیا چیز باقی رہ گئی ہے (جو تمہارے اس ریکارڈ میں نہیں ہے) وہ عرض کریں گے ! پروردگار ! بندوں کے اعمال کے سلسلہ میں جو کچھ بھی ہمیں معلوم ہو اور جو کچھ بھی ہم نے یاد رکھا ہم نے اسے اس ریکارڈ میں جمع کردیا ہے، اس ریکارڈ میں ہم نے ایسی کوئی چیز محفوظ کرنے سے نہیں چھوڑی جس کی ہمیں خبر ہوئی ہو تب اللہ تعالیٰ بندہ کو مخاطب کر کے فرمائے گا کہ میرے پاس تیری ایسی نیکی محفوظ ہے جسے کوئی نہیں جانتا اور وہ ذکر خفی ہے میں تجھے اس نیکی کا اجر عطا کروں گا۔ ذکر بالقلب کی دوسری قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو جو احکام دئیے ہیں خواہ ان کا تعلق امر کرنے سے ہو یا نہی سے ان کی ادائیگی کے وقت آنے پر اللہ تعالیٰ کو یاد کیا جائے۔ ذکر بالقلب کی ان دونوں قسموں میں سے پہلی قسم افضل واعلیٰ ہے بعض فقہاء کہتے ہیں کہ ذکر کا اطلاق صرف زبان کے ساتھ اللہ کا ذکر کرنے پر ہوتا ہے اور قول مختار کے مطابق اس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ " وہ اپنے تئیں سنائے " یعنی ذکر کرنے والے کی زبان کم سے کم اس درجہ میں جاری ہو کہ وہ خود سن لے ان فقہاء کے کہنے کے مطابق اس درجہ سے کم ذکر معتبر نہیں۔ نیز یہ فقہاء یہ کہتے ہیں کہ دل کے ذکر کی حیثیت از قسم علم و تصور قلب کے فعل کی تو ہے، لیکن اسے ذکر نہیں کہیں گے۔ ذکر اسی کو کہیں گے جس کا تعلق زبان کی ادائیگی سے ہو۔ اب نہیں کہا جاسکتا کہ اس بات سے ان فقہاء کا مقصود کیا ہے ؟ اگر مطلب یہ ہے کہ لغوی طور پر فعل قلب پر ذکر کا اطلاق نہیں ہوتا تو یہ بات اس چیز کے خلاف ہے جو لغت کی کتابوں میں موجود ہے چناچہ صحاح اور قاموس میں لکھا ہے کہ ذکر نسیان کی ضد ہے اور ظاہر ہے کہ یہ خود قلب کا فعل ہے کیونکہ جس طرح نسیان بھول جانے کا تعلق قلب سے ہے اسی طرح اس کی ضد یعنی ذکر (یاد) کا تعلق بھی قلب ہی سے ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو کچھ زبان سے ادا ہوتا ہے اسے بھی ذکر کہا جاتا ہے۔ حاصل یہ کہ لفظ ذکر فعل قلب اور فعل لسان دونوں کے درمیان مشترک ہے جس طرح فعل قلب کو ذکر کہتے ہیں اسی طرح فعل لسان کو بھی ذکر کہا جاتا ہے لہٰذا جیسے ذکر باللسان معتبر ہے ایسے ہی ذکر بالقلب بھی معتبر ہے بلکہ ذکر بالقلب ہی افضل ہے۔ مشائخ طریقت رحمہم اللہ بھی فرماتے ہیں کہ ذکر کی دو قسمیں ہیں قلبی اور لسانی اور ذکر قلبی کا اثر لسانی کے اثر سے کہیں زیادہ قوی اور افضل ہے۔ جن فقہاء نے ذکر قلبی کا انکار کیا ہے ہوسکتا ہے کہ ان کی مراد یہ ہے کہ شریعت نے جن مواقع پر ذکر باللسان کی تعلیم دی ہے جیسے تسبیحات قرأت نماز اور نماز کے بعد کے اذکار و اوراد وغیرہ تو وہاں قلبی ذکر کافی نہیں ہوتا بلکہ لسانی ذکر ہونا چاہئے ان فقہاء کی مراد یہ نہیں ہے کہ ذکر قلبی پر اخروی ثواب مرتب نہیں ہوتا۔
Top