مشکوٰۃ المصابیح - ذکراللہ اور تقرب الی اللہ کا بیان - حدیث نمبر 2295
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تكثروا الكلام بغير ذكر الله فإن كثرة الكلام بغير ذكر الله قسوة للقلب وإن أبعد الناس من الله القلب القاسي . رواه الترمذي
کلام نافع
حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ذکر اللہ کے بغیر زیادہ کلام نہ کرو کیونکہ ذکر اللہ کے بغیر کلام کی کثرت دل کی سختی کا باعث ہے اور یاد رکھو کہ آدمیوں میں اللہ سے دور سب سے وہ شخص ہے جس کا دل سخت ہو۔ (ترمذی)

تشریح
کثرت کلام کو دل کی سختی کا باعث اس لئے بتایا گیا ہے کہ عام طور پر بہت زیادہ بولنے والا شخص اپنی ہی بات کہنا اور منوانا چاہتا ہے وہ صحیح اور مبنی برحق بات سنتا ہی نہیں اور نہ اپنی بات کے علاوہ کسی بات کو صحیح سمجھتا ہے چاہے وہ حقیقت سے کتنی ہی قریب کیوں نہ ہو اس کی سب بڑی خواہش لوگوں سے اختلاط و ارتباط ہوتی ہے خوف اللہ اس کے نزدیک کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتا اور آخرت سے غفلت اس کا شعار ہوتا ہے۔
Top