مشکوٰۃ المصابیح - جنت اور دوزخ کی تخلیق کا بیان۔ - حدیث نمبر 5634
وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله خلق إسرافيل منذ يوم خلقه صافا قدميه لا يرفع بصره بينه وبين الرب تبارك وتعالى سبعون نورا ما منها من نور يدنو منه إلا احترق . رواه الترمذي وصححه
حضرت اسرافیل (علیہ السلام) کا ذکر :
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت اسرافیل (علیہ السلام) کو جس وقت پیدا کیا، وہ اسی وقت سے اپنے دونوں پیروں کو بستہ کئے (بالکل تیار) کھڑے ہیں، نظر تک نہیں اٹھاتے ان کے اور ان کے بزرگ و برتر پروردگار کے درمیان نور کے ستر پردے (حائل) ہیں اگر اسرافیل (بفرض محال) ان نور (کے پردوں میں سے) کسی ایک نور (کے پردے) کے قریب پہنچ جائیں تو وہ جل کر رہ جائیں۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

تشریح
نظر تک نہیں اٹھاتے۔ یعنی حضرت اسرافیل (علیہ السلام) اپنی پیدائش کے وقت سے اس طرح مؤدت پابستہ کھڑے ہوئے ہیں کہ ان کی نگاہ بھی ایک ہی جگہ جمی ہوئی ہے، آسمان کی طرف بھی ان کی نظر نہیں اٹھتی۔ یا یہ کہ وہ ہر لمحہ صور کی طرف متوجہ ہیں، اس لئے نگاہ نہیں ہٹاتے! اس کا حاصل یہ ہوگا کہ وہ اپنی پیدائش کے وقت ہی سے صور پھونکنے کے حکم کی بجاآوری کے لئے بالکل مستعد اور اس طرح منتظر کھڑے ہیں کہ شاید اسی لمحہ حکم آپہنچے۔
Top