Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (530 - 603)
Select Hadith
530
531
532
533
534
535
536
537
538
539
540
541
542
543
544
545
546
547
548
549
550
551
552
553
554
555
556
557
558
559
560
561
562
563
564
565
566
567
568
569
570
571
572
573
574
575
576
577
578
579
580
581
582
583
584
585
586
587
588
589
590
591
592
593
594
595
596
597
598
599
600
601
602
603
مشکوٰۃ المصابیح - نماز کا بیان - حدیث نمبر 6022
وعن أنس قال : لما أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم ببيعة الرضوان كان عثمان رضي الله عنه رسول رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى مكة فبايع الناس فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن عثمان في حاجة الله وحاجة رسوله فضرب بإحدى يديه على الأخرى فكانت يد رسول الله صلى الله عليه و سلم لعثمان خيرا من أيديهم لأنفسهم . رواه الترمذي
حضرت عثمان کی ایک فضیلت
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بیت رضوان کا حکم دیا تو اس وقت حضرت عثمان غنی رسول کریم ﷺ کے نمائندہ خصوصی کی حیثیث سے مکہ گئے ہوئے تھے۔ چناچہ آپ ﷺ نے لوگوں سے (جاں نثاری کی) بیعت لی اور (جب تمام مسلمان بیعت کرچکے اور حضرت عثمان وہاں موجود نہیں تھے تو) رسول کریم ﷺ نے فرمایا عثمان! اللہ (کے دین) اور اللہ کے رسول کے کام پر گئے ہوئے ہیں اور (یہ کہہ کر) آپ ﷺ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا پس رسول کریم ﷺ کا وہ ہاتھ جو حضرت عثمان کی طرف سے تھا باقی تمام صحابہ کے ان ہاتھوں سے کہیں افضل و بہتر تھا جو ان کے اپنی طرف سے تھے۔ (ترمذی)
تشریح
بیعت رضوان اس بیعت کو کہتے ہیں جو مکہ سے تقریبا پندرہ سولہ میل کے فاصلہ پر مقام حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر آنحضرت ﷺ نے تمام مسلمانوں سے لی تھی۔ یہ نام قرآن کریم کی اس آیت سے ماخوذ ہے جو اسی واقعہ سے متعلق نازل ہوئی تھی۔ (لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ) 48۔ الفتح 18) بالتحقیق اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں سے خوش ہوا جب کہ یہ لوگ آپ ﷺ سے درخت (سمر) کے نیچے بیعت کررہے تھے۔ اس واقعہ کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ ذی قعدہ ٦ ھ میں آنحضرت ﷺ اہل اسلام کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ عمرہ کے لئے مکہ روانہ ہوئے جب حدیبیہ کے قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ قریش مکہ نے مسلمانوں کو عمرہ کے لئے مکہ میں داخل ہونے کی اجازت سے انکار کردیا ہے آنحضرت ﷺ نے حضرت عثمان کو اپنا نمائندہ خصوصی بنا کر قریش مکہ کے پاس روانہ کیا تاکہ وہ ان کو سمجھائیں۔ کہ مسلمانوں کی آمد کا مقصد جنگ وجدال نہیں ہے بلکہ صرف عمرہ کرنا ہے لہٰذا اہل مکہ کو چاہئے کہ مسلمانوں کو عمرہ کے لئے مکہ میں داخل ہونے دیں، حضرت عثمان اپنے مشن پر مکہ میں تھے کہ یہاں حدیبیہ میں مشہور ہوگیا کہ حضرت عثمان کو اہل مکہ نے قتل کردیا ہے یہ شہرت سن کر۔ یہ شہرت سن کر مسلمانوں میں سخت اضطراب وہیجان پیدا ہوگیا اور طے ہوا کہ خون عثمان کا بدلہ لیا جائے گا، چناچہ اسی موقع پر آنحضرت ﷺ نے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر تمام مسلمانوں سے اس بات کا عہد و اقرار لیا کہ اپنی جانوں کی بازی لگا کر خون عثمان کا بدلہ اہل مکہ سے لیں گے، صحابہ میں ایک ایک آدمی آتا تھا اور آنحضرت ﷺ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مار کر بیعت کرتا تھا، جب سب لوگ بیعت کرچکے تو آنحضرت ﷺ اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ کو حضرت عثمان کے ہاتھ کے قائم مقام کیا اور اس ہاتھ کو اپنے دوسرے ہاتھ پر مار کر گویا حضرت عثمان کی طرف سے بیعت کی۔ اس طرح حضرت عثمان کو خصوصی فضیلت حاصل ہوئی، کہ اگر وہ خود اس موقعہ پر موجود ہوتے اور اپنا ہاتھ آنحضرت ﷺ کے ہاتھ پر مار کر بیعت کرتے جیسا کہ اور لوگوں نے کیا تو ان کو یہ شرف نصیب نہ ہوتا کہ آنحضرت ﷺ کا دست مبارک ان کے ہاتھ کے قائم مقام ہوا اور اس بناء پر ان کی طبیعت گویا سب لوگوں کی طبیعت سے افضل و اشرف رہی۔ پس اس موقع پر ان کا غیر موجود ہونا ان کے مرتبہ میں نقصان کا باعث نہ ہوا بلکہ فضیلت اور منقبت کا سبب بن گیا بعض حضرات کا کہنا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے جس ہاتھ کو حضرت عثمان کے ہاتھ کے قائم مقام کیا تھا وہ بایاں ہاتھ تھا لیکن زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ وہ دایاں ہاتھ تھا۔
Top