صحیح مسلم - روزوں کا بیان - حدیث نمبر 2522
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا اعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَائَهُ شَهْرًا فَخَرَجَ إِلَيْنَا صَبَاحَ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَصْبَحْنَا لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّهْرَ يَکُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ثُمَّ طَبَّقَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ ثَلَاثًا مَرَّتَيْنِ بِأَصَابِعِ يَدَيْهِ کُلِّهَا وَالثَّالِثَةَ بِتِسْعٍ مِنْهَا
رمضان المبا رک سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھنے کا بیان
ہارون بن عبداللہ، حجاج بن شاعر، حجاج بن محمد، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنی ازواج مطہرات سے ایک مہینہ تک علیحدہ رہے انتیس دن گزر جانے کے بعد آپ ﷺ ہماری طرف صبح کے وقت تشریف لائے تو کچھ لوگوں نے آپ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ انتیس دنوں کے بعد تشریف لے آئے؟ پھر نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ ملایا دو مرتبہ اپنے ہاتھوں کی ساری انگلیوں کے ساتھ اور تیسری مرتبہ میں نو انگلیوں کے ساتھ۔
Top