صحیح مسلم - فتنوں کا بیان - 7225
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ مِنْ نَوْمِهِ وَهُوَ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدْ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ وَعَقَدَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ عَشَرَةً قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِکُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ قَالَ نَعَمْ إِذَا کَثُرَ الْخَبَثُ
عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، زہری، عروہ، زینب، ام سلمہ، ام حبیبہ، حضرت زینب بنت جحش سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی نیند سے یہ کہتے ہوئے بیدار ہوئے لا الہ الا اللہ عرب کے لئے اس شر سے ہلاکت ہو جو قریب آپہنچا یاجوج ماجوج کی آڑ آج اتنی کھل گئی ہے اور سفیان راوی نے اپنے ہاتھ سے دس کا عدد کا حلقہ بنایا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے اس حال میں کہ نیک لوگ ہم میں موجود ہوں گے آپ نے فرمایا جب فسق وفجور کی کثرت ہوجائے گی۔
Top